Al-Risala · November 1996 · page 13

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۳

یعنی غورو فکر کے ذریعہ آدمی اپنے ذہن کو مسلسل وسیع کرتا رہے۔ اس پر کبھی ٹھہراؤ کی وہ حالت نہ آئے جس کو فکری جمود کہا جاتا ہے۔

جناب تسلیم احمد ایڈووکیٹ کے مکان پر دیر تک نشست رہی۔ اس میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔

مسجد کرہ نوابان کے امام مولانا بدر الاسلام قاسمی نے بتایا کہ نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لینے کے بعد وہاں جو لڑائی ہوئی، اس وقت وہ دار العلوم دیو بند میں موجود تھے۔ اس زمانہ میں مصری حکومت نے عربی زبان کے دو استاد دیو بند بھیجے تھے۔ ان میں سے ایک شیخ عبد المنعم النمر تھے۔ وہ آئے تو ان کے چہرہ پر داڑھی نہیں تھی۔ دیو بند کی فضا میں انھوں نے داڑھی رکھ لی۔ دو سال کی مدت پوری کرنے کے بعد جب وہ واپس جانے لگے تو دہلی ہوائی اڈہ پر پہنچ کر انھوں نے اپنی داڑھی منڈوا دی۔ اور اس کا بال اپنے ہاتھ میں لے کر کہا : خذوا لحیتکم يا اهل الهند (اے ہندوستان والو، یہ اپنی داڑھی لو)

امام صاحب قاری محمد طیب صاحب کے شاگرد ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ قاری طیب صاحب نے ایک بار کہا کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی کے پاس ایک شخص آیا اور سوال کیا کہ حضرت ، یزید کیسا تھا۔ مولانا نانوتوی نے ایک لمحہ سوچا اور اس کے بعد کہا : شاعر بہت اچھا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ جواب کا وہی طریقہ ہے جس کو انگریزی میں ٹالنے والا جواب (evasive reply) کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سوال کرنے والا کوئی ایسا سوال کر دیتا ہے جس کا براہ راست جواب دینا کسی وجہ سے مناسب نہیں ہوتا۔ ایسے موقع کے لیے جواب کا یہ طریقہ بہت موزوں اور مفید ہے۔

ایک اور صاحب نے بتایا کہ ایک بار الکشن کے زمانہ میں کانگریس والوں کو معلوم ہوا کہ فلاں حلقہ انتخاب میں تبلیغ والے بہت ہیں۔ اور اگر مولانا یوسف صاحب (سابق امیر تبلیغ) کہہ دیں تو تمام تبلیغی لوگ کانگریس کو ووٹ دے دیں گے۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ کون شخص ہو جو مولانا یوسف صاحب سے یہ بات کہے کسی کانگریسی نے بتایا کہ اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں آدمی مولانا حسین احمد مدنی ہیں۔ چنانچہ طے ہوا کہ کچھ لوگ مولانا حسین احمد مدنی کے پاس جائیں اور ان سے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page