In the land of Begum Samru
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۷
، مارچ (۱۹۹۶) میں ایک معلوماتی مضمون مسٹر گلشن مہرا کے قلم سے چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے ــــــــــ بیگم سمرو کی سرزمین میں :
In the land of Begum Samru
۱۲ اپریل کو جمعہ سے پہلے ہم لوگ سردھنہ کا مشہور سینٹ میری چرچ (St. Mary's Church) دیکھنے کے لیے نکلے۔ یہ سفر جناب علاؤالدین صاحب کی گاڑی میں طے ہوا۔ اس چرچ کا ذکر پہلی بار میں نے مذکورہ اخبار میں پڑھا تھا۔ یہ ایک وسیع حصار بند علاقہ ہے جو گویا سردھنہ کے اندر ایک عظیم تر سر د ھنہ ہے۔ تقریباً ۶۵ ایکڑ رقبہ میں پھیلی ہوئی یہ وسیع دنیا ایک خاتون نے بنوائی تھی جو عام طور پر بیگم سمرو کے نام سے مشہور ہیں۔ عظیم چرچ کے گیٹ کے اوپر حسب ذیل فارسی قطعہ لکھا ہوا ہے :
با مددِ حندا فضلِ مسیحا بسال، ہجده صد عشرين واثنا بدل زیب النساء، عمدہ اراکین بنا فرمود عالی شان کلیسا چرچ کے ایک کتابچے سے معلوم ہوا کہ بیگم سمرو کا اصل نام فرزانہ تھا۔ ان کے باپ کا نام لطیف علی خان تھا۔ وہ میرٹھ ضلع کے ایک گاؤں کوٹانہ میں ۵۳اء میں پیدا ہوئیں۔ ان کی عمر چھ سال تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ذریعہ معاش کی تلاش میں ان کی ماں انھیں لے کر دہلی گئیں۔ ان کی باقاعدہ تعلیم نہ ہوسکی۔ چنانچہ انھوں نے رقص و سرود کا پیشہ اختیار کر لیا۔ جب ان کی عمر پندرہ سال تھی، ایک فرانسیسی افسر (Walter Reinhardt) نے ان کو ایک رقص پارٹی میں دیکھا۔ وہ اس کو پسند آ گئیں اور اس نے ان سے نکاح کر لیا۔ ۱۷۶۵ میں بیگم کا نکاح مسٹر سمرو سے خالص اسلامی روایات کے مطابق ہوا۔
مذکورہ فرانسیسی افسر کا اصل نام والٹرین ہارٹ تھا۔ مگر وہ سیاہ فام تھا، اس بنا پر اس کے یورپی ساتھی اس کو سومبرے (Le Sombre) کہنے لگے جس کے معنی تاریک کے ہیں۔ یہ لفظ بول چال میں بگڑ کر سُمرو (Sumru) بن گیا۔ اس طرح یہ فرانسیسی افسر سُمرو کہا جانے لگا۔ اور جب اس کا نکاح مذکورہ خاتون سے ہوا تو وہ بھی بیگم سمرو کے نام سے مشہور ہو گئیں۔ مذکورہ فرانسیسی ابتدا ؤ راجہ جواہر سنگھ (بھرت پور) کی فوج میں افسر تھا۔ اٹھارویں صدی
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues