Al-Risala · November 1996 · page 36

We all are children of one Father.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶

انھوں نے اپنی کوششوں سے ایک تعلیمی ادارہ کھولا ہے۔ اور اس کو اعلیٰ معیار پر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ ادارہ ترقی کرے گا۔ اور وہ سرحد کے مسلمانوں کی اس کمی کو پورا کرنے کا باعث بنے گا۔

میں نے مشورہ دیا کہ آپ لوگ سرحد ھنہ میں ایک لائبریری بنائیں ۔ لائبریری صرف کتابوں کا ایک کمرہ نہیں ، وہ دراصل لوگوں کو باشعور بنانے کی ایک خاموش تحریک ہے۔ اور اس کو ہر بستی اور ہر مقام پر ہونا چاہیے۔

مسلمانوں کے عروج کے زمانہ میں لائبریریوں کا عام رواج تھا۔ برطانیہ کا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کی قائم کی ہوئی لائبریریوں میں بسا اوقات ایک لاکھ سے بھی زیادہ کتابیں ہوتی تھیں۔ یورپ کی نشأہ ثانیہ جن کتابوں کے ذریعہ ظہور میں آئی ، اس کا بڑا حصہ مسلم کتب خانوں میں جمع شدہ عربی کتابوں سے حاصل ہوا تھا جن کو لے کر یورپی زبان میں ان کا ترجمہ کیا گیا (۱۵/ ۴۶۶)

برطانیہ کا کے مقالہ نگار نے مزید لکھا ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم اور کتب خانوں کا یہ بڑھا ہوا ذوق پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ تھا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے پیروؤں سے کہا کہ تم علم حاصل کرو، خواہ اس کے لیے تمہیں چین جانا پڑے۔ مورخین بناتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام نے کچھ قیدیوں کے لیے یہ اصول مقرر کیا کہ ان میں کا جو شخص مخصوص تعداد میں بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھادے تو وہ رہا کردیا جائے گا (۴۵/۱۵)

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پس ماندگی کا کوئی ایک سبب بتانا ہو تو یقیناً وہ یہی تعلیمی پچھڑاپن ہوگا۔

چرچ سے واپسی کے بعد کچھ دیر جناب عمران الزمان صاحب کے مکان پر ٹھہرے۔ انھوں نے چائے کے ساتھ ایک پورا دستر خوان بچھا دیا تھا جس پر کھانے کی مختلف چیزیں موجود تھیں۔ میں نے کہا کہ بھائی، میں ان مولویوں میں سے نہیں ہوں جو اپنے سفر ناموں میں لکھتے ہیں کہ پر تکلف کھانے کا انتظام تھا ، ڈٹ کر کھایا‘‘ میرا اصول اس کے برعکس یہ ہے: کم کھانا، اور سادہ زندگی گزارنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page