We all are children of one Father.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۷
باہر خوانچہ والا آواز لگا رہا تھا: چیکو میٹھے، چیکو میٹھے۔ میں نے کہا کہ چیکو میٹھے ہی ہوتے ہیں۔ پھر وہ بار بار میٹھا کیوں کہہ رہا ہے۔ یہ دراصل اس کے جوش تجارت کی بنا پر ہے۔ اس کو چف چیکو کہہ کر اطمینان نہیں ہوا۔ اس لیے اس نے اس میں مزید الفاظ کا اضافہ کر دیا۔ یہ گویا عمل پر ہے۔ اور اس کا تعلق ہر چیز سے ہے۔ لوگوں کے اندر حقیقی تڑپ ہو تو دین میں بھی اس کی مزید کے مظاہر دکھائی دینے لگیں گے۔
الرسالہ کے ایک قاری سے میں نے پوچھا کہ آپ کو اس سے کتنا اتفاق ہے۔ انھوں نے کہا کہ 90 فی صد۔ میں نے پوچھا کہ بقیہ لانی صد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر و اعراض تلقین کرتے ہیں، اور اس سے مجھے اتفاق نہیں۔
میں نے کہا کہ صبر و اعراض تو خالص قرآنی تعلیم ہے، پھر کیا آپ کو قرآن سے اتفاق نہیں۔ یوں نے کہا کہ قرآن سے کس مسلمان کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ مجھے قرآن کے نظریہ صبر سے نہیں بلکہ الرسالہ کے نظریہ صبر سے اختلاف ہے۔ میں نے کہا کہ دونوں کا فرق مثال کے یہ بتائیے۔ مگر وہ کوئی فرق نہ بتا سکے۔
اصل یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر صبر و اعراض کی بات قبول نہیں کر پاتے۔ ان کو ٹکراؤ والاعمل تو معلوم ہے مگر انھیں صبر والا عمل معلوم نہیں۔ وہ راؤ کو عمل سمجھتے ہیں اور صبر کو بے عملی۔ اب چونکہ ان کے اندر قرآن سے اختلاف کی جرات میں، اس لیے کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں قرآن والے صبر سے نہیں بلکہ الرسالہ والے صبر سے اختلاف ہے۔ اس معاملہ میں ان کی غیر سنجیدگی کا ثبوت یہ ہے کہ ان سے جب دونوں کا فرق پوچھا جائے تو وہ فرق بتانے سے عاجز ثابت ہوتے ہیں۔
دوسری بات میں نے یہ کہی کہ صبر کوئی الرسالہ کی بات نہیں، وہ فطرت کا قانون ہے۔ سر اس دنیا میں جینے کی قیمت ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ صبر کرنا ہے یا نہیں۔ - اصل سوال یہ ہے کہ آپ کو یہاں جینا ہے یا نہیں جینا ہے۔ اگر صبر نہیں تو زندگی بھی نہیں۔ اس لیے یہ نہ کہئے کہ ہمیں صبر نہیں کرنا ہے، بلکہ یہ کہئے کہ ہمیں جینا نہیں ہے ، ہم کو تو صرف ہونا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues