We all are children of one Father.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۸
مولانا محمد عرفان قاسمی نے اپنا ایک تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ ”چند سال پیشتر آپ کے فکری غلطی نامی کتاب چھپی تھی۔ وہ میری نظر سے گزری۔ پڑھنے سے پہلے میرا خیال تھا کہ مصنف نے آپ کے تمام لٹریچر کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کے مشترک بنیادی فکری نشان دہی کی۔ پھر اس بنیادی فکر کو قرآن و حدیث کے ذریعہ رد کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ لیکن کتاب پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ مصنف خود تبصرہ وتنقید کے اصول سے ناواقف ہیں۔ اپنی کتاب میں تبصرہ وتنقید کا جو انداز انھوں نے اختیار کیا ہے، اس کی غلطی اسی سے ثابت ہے کہ اگر اس کو تبصرہ کا معیار مان لیا جائے تو حدیث کی تمام کتابوں پر بھی بعینہ یہی تبصرہ صادق آئے گا جو انھوں نے فکر و وحید پر چسپاں کیا ہے۔ مثلاً انھوں نے تعارض کی مثال دی ہے۔ جب کہ حدیث کے اندر بھی بظاہر اسی قسم کے تعارض موجود ہیں۔ حالاں کہ یہ بات لغویت کی حد تک غلط ہے کہ حدیث میں تعارض کا دعویٰ کیا جائے۔ تبصرہ نگار نے ایک اور بڑی غلطی یہ کی ہے کہ ایک جزوی اور وقتی حالات سے متاثر کیفیت کو قاعدہ کلیہ مان کر نتیجہ اخذ کیا ہے۔ “ قرآن میں ہے کہ ــــــــ اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی چیز کی خبر پاتے تو وہ اس کو مذاق بنا لیتا ہے (و اذا علم من آیاتنا شيئا اتخذها هزوا) الجاثیہ ۹ یہاں یہ سوال ہے کہ قرآن تو مکمل طور پر ایک برحق کتاب ہے۔ پھر کوئی شخص قرآن میں کس طرح ایسی شئی (چیز) پالیتا ہے جس کا وہ مذاق اڑا سکے۔ جواب یہ ہے کہ قابل استہزار شے کتاب میں نہیں ہوتی بلکہ غیر سنجیدہ آدمی کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے۔ کسی بھی بات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے سنجیدگی ضروری ہے۔ آدمی کے اندر سنجیدگی نہ ہو تو وہ خدا کی کتاب میں بھی الٹی بات نکال کر اس کا مذاق اڑانے لگے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہدایت یابی کے لیے تقویٰ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
مولانا محمد عرفان قاسمی پابندی کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا: ”صحیح اسلامی تحریک وہ ہے جو دین کی بے آمیز دعوت پر اٹھائی جائے ۔ اور الرسالہ کو میں اسی معیار پر پاتا ہوں۔ میرا احساس ہے کہ الرسالہ جو حقیقت پسندی جو گہری نظر پیدا کرنا چاہتا ہے، آج اسی کی ضرورت ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ صفات پیدا ہو
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues