Al-Risala · November 1996 · page 44

We all are children of one Father.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۴

آغاز ہے۔ اس سلسلے میں تاریخی مثالیں دیتے ہوئے بتایا تھا کہ علم سے مراد سند اور سرٹیفکیٹ والا علم نہیں ہے۔ بلکہ وہ علم ہے جو آدمی کو باشعور بنائے۔ جو مومن کو صاحب فراست انسان بنا دے۔ جو عصر میں یسر دیکھنے کی نظر پیدا کرے۔ جس کا یہ نتیجہ ہو کہ آدمی پہاڑوں کو دیکھ کر اس سے تقویٰ اور خشیت کی غذا لینے لگے۔

سفر کے آخر میں مولانا محمد عرفان قاسمی (استاذ حدیث) نے اپنا تاثر تحریری صورت میں لکھ کر دیا۔ یہ انھیں کے اپنے الفاظ میں حسب ذیل ہے :

”اسلامی تاریخ میں بے شمار دُعاۃ و مبلغین پیدا ہوئے ہیں، لیکن صاحب الرسالہ اپنی نوعیت کے پہلے داعی ہیں جنھوں نے اسلام کے دعوتی پہلو کو نمایاں کیا ہے، موصوف نے دین کے اساسی اصول کو مرکز توجہ بنایا ہے، حق تعالیٰ نے آنجناب کو عصر حاضر میں تجدید دین و وجہ اسلام کے لیے مبعوث فرمایا۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں جہاں دین کے اندر غیر دین کی آمیزش ہوگئی تھی، وہیں احیار اسلام کے لیے موافق اسباب بھی جمع ہو گئے تھے، حضرت مولانا نے نہ صرف دین کو بے آمیز بنایا بلکہ موافق اسباب کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ، اس کو بھر پور استعمال کی کوشش کی، تاکہ فکر اسلامی کو دنیا کے اندر غالب فکر کا مقام عطا ہو سکے، سچ تو یہ ہے کہ دعوت دین کی تحریک کو جس پیغمبرانہ طریقہ پر چلایا ، یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل کے آنجناب واحد حقیقی مصداق ہیں“ ۱۲ اپریل ۱۹۹۶ کو جمعہ کی نماز اور تقریر کے بعد ایک صاحب کے مکان پر چائے کی نشست ہوئی ۔ یہاں دوبارہ مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔

آج کے اخبار میں ”ضلع میرٹھ“ کا خبرنامہ چھپا ہوا تھا۔ اس میں قتل یا حادثاتی موت کے آٹھ واقعات درج تھے ۔ کسی دیہات میں گھریلو جھگڑوں میں ایک آدمی نے دوسرے کو مار ڈالا۔ کہیں سڑک پر دو سوار یوں کی ٹکر میں کوئی شخص ہلاک ہو گیا۔ وغیرہ ۔ (قومی آواز ۱۲ اپریل ۱۹۹۶) میں نے کہا کہ دیکھیئے، میں دو دن سے میرٹھ کے علاقہ میں ہوں۔ مگر ایسی کوئی بات میرے دیکھنے یا سننے میں نہیں آئی۔ گویا کہ چار ملیں آبادی کے ضلع میں یہ محض استثنائی واقعات ہیں نہ کہ عمومی واقعات۔ لیکن اگر میں میرٹھ سے دور ہوتا اور صرف اخبار ہی میرے لیے میرٹھ ضلع کو جاننے کا ذریعہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page