Al-Risala · November 1996 · page 45

We all are children of one Father.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۵

دتا تو یہی استثنائی واقعات میرے لیے کل واقعات بن جاتے ۔ میں انھیں سے میرٹھ ضلع کی تصویر بناتا ۔ پھر میں سمجھ لیتا کہ میرٹھ تو صرف قتل اور موت کا ایک علاقہ ہے ۔ میں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان اس ملک میں ہزار سال سے امن اور محبت کے ساتھ رہتے تھے ۔ سو سال پہلے جب یہاں اخبار کا دور آیا اسی وقت سے دونوں فرقوں کے درمیان نفرتیں پیدا ہوئیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبارات دونوں فرقوں کو ایک دوسرے کی مصنوعی تصویر دکھانے لگے۔ پچھلے زمانہ میں باہمی اختلاط ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ تھا ، اب اخبارات ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ بن گئے ہیں ۔

مثال کے طور پر سردھنہ میں دونوں فرقے باہم مل کر رہتے ہیں ۔ مگر یہ بات اخبار میں نہیں چھپے گی ۔ البتہ کبھی کسی ہندو اور کسی مسلمان میں لڑائی ہو جائے تو وہ فوراً اخبار میں چھپ جاتا ہے ۔ اس قسم کی منفی رپورٹنگ دونوں طرف ہو رہی ہے ۔ ہندی اخبار اس قسم کی ادھوری رپورٹنگ کے ذریعہ ہندوؤں کا ذہن بگاڑ رہے ہیں ۔ اسی طرح اردو اخبار اسی قسم کی ناقص رپورٹنگ کے ذریعہ مسلمانوں کا ذہن بگاڑ رہے ہیں ۔ یہی غیر فطری ذہن کبھی کسی اتفاقی سبب سے بھڑک اٹھتا ہے تو وہ فرقہ وارانہ فساد کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔

یہاں سے فارغ ہو کر دہلی کے لیے روانگی ہوئی ۔ سردھنہ سے گزر کر ہماری گاڑی میرٹھ کے بازار میں داخل ہوئی ۔ میں نے دیکھا کہ ہندو اور مسلمان دونوں سرگرم طور پر مختلف تجارتوں میں مشغول ہیں ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مسلمان اس نظریہ کو رد کر رہے ہیں کہ انڈیا ان کے لیے ایک پرابلم کنٹری ہے ۔ اسی طرح ہندو اس پروپیگنڈے سے باہر نکل آئے ہیں کہ مسلمان ان کے لیے ایک غیر مطلوب فرقہ ہیں ۔ اب دونوں از سر نو ایک دوسرے کو قبول کر رہے ہیں ۔ مسلمان سمجھ چکے ہیں کہ انڈیا ان کے لیے مواقع سے بھرا ہوا ایک ملک ہے ۔ ایک عرصہ تک وہ نااہل لیڈروں اور بے بصیرت دانش وروں کے بہکاوے میں رہے ۔ اب وہ اس فریب سے باہر آگئے ہیں ۔

اسی طرح ہندو جو بعض پروپیگنڈوں سے متاثر ہو کر مسلمانوں کو بابر کی سنتان کے روپ میں دیکھنے لگا تھا ، اب وہ ان کو فرزندان وطن کے روپ میں دیکھ رہا ہے ۔ وہ ان کو ہندوستان کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page