We all are children of one Father.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۶
متحدہ قومیت کا ایک اٹوٹ حصہ سمجھ رہا ہے۔ وہ ان کو اپنے بھائی کے روپ میں دیکھ رہا ہے نہ کہ رقیب اور حریف کے روپ میں۔ یہ صورتِ حال جو آج ہر جگہ دکھائی دے رہی ہے وہ بلاشبہ ایک صحت مند سماج کی علامت ہے ، اور وہ یقینی طور پر ملک کے لیے ایک نئے اور بہتر مستقبل کی آمد خبر دے رہی ہے۔
ضلع میرٹھ گنگا اور جمنا کے درمیان واقع ہے۔ اس کی زمین نہایت زرخیز ہے۔ یہاں ہر قسم کی ترقی کے وافر مواقع موجود ہیں۔ مگر میرٹھ کو، خاص طور پر یہاں کے مسلمانوں کو جتنی ترقی کرنا چاہیے تھا، اتنی ترقی وہ نہ کر سکے۔ اس کا سبب غالباً یہاں کے لوگوں کا وہ مزاج ہے جو ۵۷۔ ۱۹ کی بغاوّت میں شرکت کے نتیجہ میں فطری طور پر بنا۔
میرٹھ سے آگے ایک نہر ہے جس کے اوپر پل بنا ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ گنگا نہر ہے۔ ۱۹۸۰ء کے فساد میں پچاس سے زیادہ مردوں اور عورتوں کو گولی مار کر اس نہر میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کی ضروری تفصیل الرساله نومبر ۱۹۸۸ء، صفحہ ۳۰- ۳۵ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جب گنگا نہر کے بہتے ہوئے پانی پر میری نگاہ پڑی تو میں نے سوچا کہ کیا یہ پانی نو سال پہلے ہونے والے واقعے کی تفصیل بتائے گا۔ پھر میرے ذہن میں آیا کہ وہ پانی اب یہاں کہاں ہے۔ وہ وہ تو بہہ کر سمندر میں جا چکا۔ پھر خیال آیا کہ وہ پانی اب سمندر میں بھی نہیں ہوگا ۔ وہ بھاپ بن کر فضا میں چلا گیا ہوگا اور پھر بادل بن کر کہاں کہاں برسا ہوگا، اب کسی کو بھی یہ معلوم نہیں۔ مگر خدا کے علم میں یہ ساری باتیں اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کی قدرت میں ہے کہ وہ حکم دے اور تمام چیز ہی دوبارہ اکٹھا ہو کر پورے واقعے کو ٹھیک اسی طرح سنا دیں جس طرح وہ ۲۳ مئی ، ۱۹۸۰ء کو پیش آیا تھا۔ اس دن کون ظالم ثابت ہوگا اور کون مظلوم قرار دیا جائے گا، اس کا علم خدا کے سوا کسی اور کو نہیں۔
راستہ میں ہم مودی نگر سے گزرے۔ یہاں ایک شوگر مل ہے۔ اس کے پاس دور تک سڑک کے کنارے گنّا لانے والوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی ، کسان اپنا اپنا گنا ٹریکٹر پر لاد کر یہاں لائے تھے اور اب اپنی باری کے انتظار میں کھڑے تھے۔
سب سے پہلے یہ منظر میں نے مشرقی یوپی میں شاہ گنج کی پل میں دیکھا تھا۔ اس وق۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues