Al-Risala · December 1996 · page 15

نوبراہلم انسان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۵

نوبراہلم انسان

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : واللہ لا یؤمن واللہ لا یؤمن واللہ لا یؤمن الذی لا یأمن جارہ بوائقه (البخاری، کتاب الادب) خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کے شر سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان اور پڑوسی کو ستانا دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ ایمان ہو گا تو پڑوسی کو ستانا نہیں ہوگا، اور جہاں پڑوسی کو ستایا جا رہا ہو وہاں ایمان موجود نہ ہوگا۔ اگر کسی مقام پر پھول ہو تو آس پاس کے لوگوں کو خوشبو مل رہی ہوگی۔ یہ ناممکن ہے کہ پھول تو موجود ہو مگر ماحول کو اس سے بدبو کا تحفہ ملے ، اسی طرح مومن خدا کا زندہ پھول ہے۔ وہ جہاں بھی ہو وہ اپنے آس پاس کے ماحول کو خوشبو دار سلوک کی نعمت دے رہا ہوگا۔ اور اگر کسی ماحول میں لوگوں کو بدبو دار سلوک کا تجربہ ہو رہا ہو تو یقین کر لینا چاہیے کہ وہاں نہ ایمان ہے اور نہ وہاں مومن کوئی وجود ہے۔

ایمان کیا ہے، ایمان شخصیت کی تعمیر ہے۔ ایمان ایک انسان کو عام انسان کے درجہ سے اٹھا کر خاص انسان بنا دیتا ہے۔ اب وہ ایک محتاط انسان بن جاتا ہے۔ اب وہ صرف اپنے آپ میں نہیں جیتا بلکہ دوسروں کی رعایت کو بھی وہ اپنے لیے لازم قرار دے لیتا ہے۔ وہ اپنے ہر عمل سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ اس کی سرگرمیاں دوسرے کے لیے تکلیف کا سبب تو نہیں بنیں گی۔ اس کی اس محتاط روش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے پڑوسیوں کو اس کی طرف سے کسی برے تجربہ کا سابقہ پیش نہیں آتا۔

حدیث میں جو بات کہی گئی ہے ، اس کو لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ مومن ایک نوبراہلم انسان ہوتا ہے۔ وہ خواہ جہاں بھی ہو، ہر جگہ اس کے پاس کے لوگوں اور اس سے تعلق رکھنے والوں کو اس سے راحت ملتی ہے ، کسی کے لیے بھی وہ مسئلہ پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتا۔ ایمان کا اول درجہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کے لیے نفع بخش بنیں۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ لوگوں کو آپ اپنے ضرر سے بچائیں۔ اس کے بعد ایمان کا کوئی تیسرا درجہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page