Al-Risala · December 1996 · page 16

مجرم کی گرفت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۶

مجرم کی گرفت

۱۴ جون ۱۹۹۶ کے اخباروں میں برطانیہ کی ایک خبر اس عنوان کے ساتھ چھپی ــــ کیمرہ نے بم سے بھری ہوئی گاڑی کا فوٹو لے لیا :

Cameras captured bomb-laden van

قصہ یہ تھا کہ ۱۴ جون ۱۹۹۶ کو مانچسٹر کے ایک شاپنگ سنٹر میں ایک وین (گاڑی) آکر کھڑی ہوئی۔ وہ طاقت ور بموں سے بھری ہوئی تھی، دو آدمی اس کو لے کر آئے۔ انھوں نے گاڑی وہاں کھڑی کی اور پھر اتر کر بھاگ گئے۔

کچھ دیر کے بعد اس کے بم زور دار دھماکہ کے ساتھ پھٹ گئے۔ عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ دو سو سے زیادہ آدمی زخمی ہوگئے، کئی آدمی مر گئے۔ ایک میل کے دائرہ میں افراتفری پھیل گئی۔ لوگ چاروں طرف بد حواسی کے ساتھ بھاگ رہے تھے۔ اس حادثہ میں بم والی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی، بظاہر اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔

مگر اس شاپنگ سنٹر میں ویڈیو کیمرے (security video cameras) لگے ہوئے تھے۔ مذکورہ گاڑی جب اس مقام پر داخل ہوئی تو فوراً ہی ان کیمروں نے اس کے فوٹو لینا شروع کر دیے۔ حتی کہ اس کو لانے والے جب گاڑی سے اتر کر بھاگے تو ان کے فوٹو بھی اس نظام نے کھینچ لیے۔ اس کے نتیجہ میں پولیس کو گاڑی کی قسم، اس کا نمبر، اس کا رنگ اور اس کے ڈرائیور، سب کی بابت معلومات ہو گئیں۔ اس کے ذریعہ معلوم ہو گیا کہ آئرش ری پبلکن پارٹی (IRA) کے لوگوں نے یہ کارروائی کی ہے۔ چنانچہ جلد ہی وہ لوگ پکڑ لیے گئے۔

یہ واقعہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کس طرح اس دنیا میں خدا نے نگرانی کا نظام قائم کر رکھا ہے جو ہر آن اور ہر لمحہ انسان کے اعمال کا ریکارڈ تیار کر رہا ہے۔ حتی کہ جرم کے آثار مٹنے سے پہلے وہ جرم کا ریکارڈ محفوظ کر لیتا ہے۔ کسی بھی حال میں کسی انسان کے لیے اپنے آپ کو خدا کی نظر سے چھپانا ممکن نہیں۔ لوگ اس نظام کو نہیں دیکھتے۔ مگر یہ نظام ہر آن لوگوں کو دیکھ رہا ہے اور ہر لمحہ ان کا ریکارڈ تیار کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page