Al-Risala · December 1996 · page 17

پاور کا جھگڑا

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۷

پاور کا جھگڑا

کسی گھر میں ساس اور بہو کا جھگڑا کیوں ہوتا ہے۔ غور کیجیے تو کھانا کپڑا اور ضروریات زندگی دونوں میں سے ہر ایک کو پوری طرح ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ پھر جھگڑا کس بات کا۔ یہ جھگڑا صرف پاور کا ہوتا ہے۔ دونوں میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ گھر کا سارا اختیار میرے پاس رہے۔ اختیار یا پاور بچوں کی غیر مشترک چیز ہے، وہ کسی ایک ہی کے پاس رہ سکتا ہے۔ اس لیے دونوں میں مستقل جھگڑا قائم ہو جاتا ہے۔

مسجد اور مدرسہ میں جھگڑا کیوں ہوتا ہے۔ وہاں بھی ہر ایک کو عبادت اور تعلیم یا ادارہ کی خدمت کے یکساں مواقع ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ پھر جھگڑا کیوں۔ یہ جھگڑا بھی صرف پاور کا ہے۔ کچھ افراد چاہتے ہیں کہ سارا اختیار میرے ہاتھ میں رہے، اس پر ان لوگوں سے ان کا جھگڑا ہو جاتا ہے جو انھیں کی طرح خود بھی یہ چاہتے ہیں کہ وہ تنہا سارے اختیارات کے مالک ہوں۔ اسی طرح کشمیر، چچینیا، بوسنیا، برما، فلپائن، فلسطین اور دوسرے مقامات کا جھگڑا کیوں ہے۔ یہ تمام جھگڑا بھی پاور کا جھگڑا ہے۔ جھگڑا برپا کرنے سے پہلے ہر جگہ کے مسلمانوں کو زندگی کی ضروریات بفراغت ملی ہوئی تھیں۔ دینی اور تعلیمی اور اقتصادی کام کے مواقع بھی انھیں پوری طرح حاصل تھے ۔ اس کے باوجود ہر جگہ خونی جنگ کیوں برپا ہوگئی، صرف پاور کے لیے۔ مزید یہ کہ تجربہ بتاتا ہے کہ پاور کی یہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی، مثلاً پاکستان میں ہندوسے اور افغانستان میں کمیونسٹوں سے پاور کی جنگ ختم ہوئی تو دوبارہ وہی جنگ مزید اضافے کے ساتھ بھڑک اٹھی۔ کیوں کہ پاور اشتراک کو قبول نہیں کرتا۔ جب کہ اس کے خواہش مند کئی ہوتے ہیں، اس لیے پاور ہنگری سماج میں پاور کی جنگ ابدی طور پر جاری رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاور ایک دردِ سر ہے۔ دردِ سر کو دوسروں کے حوالے کر کے ضروریات زندگی اور مواقع حیات پر قانع بن جایئے ، اور پھر سماج میں جنگ اور ٹکراؤ کی حالت اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ پاور کے لیے وہ لوگ لڑتے ہیں جن کو کوئی کام کرنا نہ ہو۔ کیوں کہ کام کرنے کا موقع تو ہر حال میں ہر انسان کے لیے موجود رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page