Al-Risala · December 1996 · page 18

فرضی اندیشے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۸

فرضی اندیشے

۲۱ جولائی ۱۹۹۶ کو بنگلور (سبراھیم پورہ) میں ایک عبرت انگیز واقعہ ہوا۔ ایک لڑکا جی ہریش بابو دیویکا نند ہائر پرائمری اسکول میں فورتھ اسٹینڈرڈ (چوتھے درجہ کا طالب علم تھا۔ اس نے اپنے گھر کے ایک کمرہ میں اپنے کو بند کر کے اپنے اوپر مٹی کا تیل (کیروسین) انڈیل لیا اور اپنے کپڑوں کو آگ لگائی۔ اس طرح وہ جل کر مرگیا۔ اخباری رپورٹ کے الفاظ میں، اس کا سبب امتحان میں ناکام ہو جانے کا اندیشہ تھا :

Fear of failure in examinations.

لڑکے کے باپ جی گوپی ناتھ نے بتایا کہ ہریش حسب معمول اپنے اسکول سے واپس آیا۔ اس نے اپنی ماں سے کہا کہ اس کی ٹیچر اس سے ملنا چاہتی ہے۔ اس کے مطابق لیلا اسکول چلی گئی۔ اس کے بعد ہریش نے کچن میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا اور اپنے آپ کو آگ لگائی۔ آواز سن کر پڑوسی دوڑ پڑے۔ مگر جب کچن کا دروازہ توڑ کر لڑکے کو نکالا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ جل کر مر چکا ہے۔ لڑکے کی ماں لیلا جب اسکول پہنچی تو وہاں اس کو نتیجہ کا پرچہ (marks card) دیا گیا۔ وہ اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ کیوں کہ اس کے لڑکے نے ۷۰۰ میں ۴۷۹ نمبر حاصل کیے تھے مگر جب وہ گھر پہنچی تو اس کی خوشیاں غم میں تبدیل ہو گئیں۔ کیوں کہ اس نے دیکھا کہ اس کا لڑکا خود کشی کر کے اپنی جان دے چکا ہے (ٹائمز آف انڈیا ۲۲ جولائی ۱۹۹۶)

ہریش بابو اگر چند گھنٹے اور انتظار کر لیتا تو اس کو معلوم ہو جاتا کہ اس کا اندیشہ بالکل بے بنیاد تھا۔ امتحان میں وہ اچھے نمبر لا کر پاس ہو چکا تھا، مگر وہ فرضی اندیشے میں مبتلا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے خوف کے تحت اپنی جان دے دی۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حالات کا غلط اندازہ کر کے آدمی اندیشوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ مستقبل بتاتا ہے کہ وہ اندیشے سرے سے پیش آنے والے ہی نہ تھے ۔ جو چیز آج نہ مل رہی ہو اس کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے۔ بجائے اس کے کہ اس کو نہ ملنے والی چیز سمجھ کر آپ مایوسی اور بے ہمتی کا شکار ہو جائیں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page