Al-Risala · December 1996 · page 19

Fear of failure in examinations.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۹

صبر کی اہمیت

صبر دین کا خلاصہ ہے۔ صبر ہر قسم کی نیکیوں کی بنیاد ہے۔ صبر دنیا میں کامیابی کا زینہ ہے اور آخرت میں وہ جنت کی کنجی ہے۔ قرآن میں صبر کے بارہ میں ایک ایسی آیت ہے جو کسی بھی دوسرے عمل کے بارہ میں نہیں۔ فرمایا کہ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا ( انما يوفى الصابرون اجرهم بغير حساب )

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ما اعطى احد عطاء خيراً واوسع من الصبر۔ یعنی صبر سے بہتر اور صبر سے بڑا کوئی عطیہ انسان کو نہیں دیا گیا۔ ابن حجر العسقلانی نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صبر تمام اعلیٰ اخلاقیات کا جامع ہے ( الصبر جامع لمكارم الاخلاق )

احادیث و آثار میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے اپنی زندگی کا خیر صبر ہی کے ذریعہ حاصل کیا ہے : وجدنا خيرعيشنا بالصبر (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۱ / ۳۰۹ - ۳۱۱) ابن جوزی نے لکھا ہے کہ عاقبة الصبر الجميل جميلة (صيد الخاطر ۳۹۹) یعنی صبر جمیل کا انجام بھی جمیل ہے۔ ابن منظور نے لکھا ہے کہ (اصل الصبر الحبس ، والصبر نقيض الجزع ۔ یعنی صبر کی اصل حبس ہے ، صبر جزع کا الٹا ہے (لسان العرب ۴/ ۴۲۸) راغب الاصفہانی نے لکھا ہے کہ الصبر الامساك، والصبر حبس النفس على ما يقتضيه العقل والشرع ۔ یعنی صبر کی حقیقت امساک ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی عقل اور شریعت کے تقاضے کے مطابق اپنے آپ کو روکے (المفردات في غريب القرآن ۲۷۳ )

صبر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے ۔ اس کی وجہ موجودہ دنیا کی صورت حال ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اسی امتحان یا آزمائش کی مصلحت کی بنا پر یہاں ہر شخص کو پوری آزادی دی گئی ہے۔ یہ انسانی آزادی خود خدا کے منصوبہ کے تحت ہے ، اس لیے کوئی بھی اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page