Fear of failure in examinations.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۰
اس دنیا میں انسان آزاد ہے کہ وہ خدا کو مانے یا اس کا انکار کر دے۔ وہ خدا کے پیغمبر کا اعتراف کرے یا اس کو گالی دے اور اسے پتھر مارے ۔ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں نیکی کا طریقہ اختیار کرے یا ظالم اور نا انصاف اور غلط کار بن جائے ۔
اسی آزمائشی آزادی نے موجودہ دنیا میں صبر کو اتنا زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ زندگی گزارے جس کو ربانی زندگی کہا گیا ہے۔ مگر اس ربانی زندگی کو اختیار کرنے میں بار بار رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ اس معیار انسانیت پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے کہ جو مخالفانہ ماحول کے باوجود اس پر قائم رہنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ صبر آدمی کے اندر یہی صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔ آدمی کے اوپر خواہشوں کا غلبہ ہوتا ہے، اس وقت وہ صبر کر کے اپنے آپ کو خواہشات کا شکار ہونے سے بچاتا ہے ۔ لوگ اس کو ستاتے ہیں اور اس کے خلاف اشتعال انگیزی کرتے ہیں ۔ اس وقت وہ صبر کرتا ہے تاکہ اس کی حالت روحانی بھنگ نہ ہونے پائے ۔ لوگ اس کے خلاف دشمنانہ کار روائی کرتے ہیں، اس وقت وہ صبر کے ذریعہ اپنے کو تھامتا ہے تاکہ وہ ان کے مقابلہ میں جلد بازی کا کوئی اقدام نہ کرے بلکہ ٹھنڈے ذہن سے سوچ سمجھ کر منصوبہ بند انداز میں ان کا مؤثر جواب دے ۔ صبر بظاہر کسی انسان کے مقابلہ میں ہوتا ہے ، اس لیے آدمی فوراََ صبر کرنے کو اپنے لیے عزت کا سوال بنا لیتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے صبر کیا تو یہ دوسرے شخص کے مقابلہ میں ہار ماننا یا اپنے آپ کو بے عزت کرنا ہو گا۔ یہی خاص نفسیات ہے جس کی بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی صبر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ صبر کا تعلق انسان سے نہیں ہے بلکہ خدا سے ہے۔ آدمی جب صبر کرتا ہے تو گویا کہ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کے فیصلہ پر راضی ہوں۔ یہ خود خدا ہے جس نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا کہ وہاں صبر کے بغیر کوئی کام نہ ہو سکے ۔ اس لیے اس دنیا میں صبر کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ آدمی نظام قدرت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے ۔ وہ قدرت کے نقشہ کو بدلے بغیر اس کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ بنا رہا ہے۔ صبر خدا کی حاکمیت کے مقابلہ میں اپنی محکومی کا اقرار ہے صبر ایک عبادت ہے بلکہ سب سے بڑی عبادت ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues