تاریخی پس منظر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۱
تاریخی پس منظر
انسان کو زمین پر اس لیے بسایا گیا تھا کہ وہ ایک خدا کا پرستار بنے اور اس کا شکر کرتے ہوئے یہاں زندگی گزارے۔ مگر بہت جلد ایسا ہوا کہ انسان مخلوقات کی پرستش کرنے لگا۔ وہ خالق کا شکر گزار بننے کے بجائے مخلوقات کی شکر گزاری کرنے لگا۔ روشن سورج، اونچا پہاڑ، رواں دریا اور دوسری مخلوقات کی عظمت میں وہ اتنا گم ہوا کہ اللہ کی عظمت اسے یاد نہ رہی۔ اس طرح انسان توحید کے راستہ کو چھوڑ کر شرک کے راستہ پر چل پڑا۔ پوری انسانی تہذیب شرک کے رنگ میں رنگ گئی۔ پیدائش اور موت کی رموں سے لے کر زندگی کے اجتماعی نظام تک ہر چیز پر مشرک کا تصور غالب آگیا۔ بادشاہ بھی بہت سے خداؤں میں سے ایک خدا بن گئے جو مقدس سیاسی حق کے تخت لوگوں پر حکومت کرنے لگے۔ اس زمانہ میں ساری دنیا میں مطلق شہنشاہیت (monarchical absolutism) کا دور دورہ ہوگیا۔ چند افراد یا چند خاندان بادشاہت کے خدائی حقوق (divine right of kings) حاصل کر کے لوگوں کے اوپر ایسے حکمران بن گئے جو کسی کے سامنے جواب دہ نہ تھے۔
اس صورت حال کا نقصان صرف یہ نہیں، ہوا کہ انسان وحدت حق کی نعمت سے محروم ہو گیا۔ بلکہ اس کا شدید تر نقصان یہ ہوا کہ ساری دنیا میں وہ جارحانہ برائی رائج ہو گئی جس کو مذہبی ایذا رسانی (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ چوں کہ بادشاہت کا پورا نظام شرک کے تصور پر قائم تھا، اس لیے توحید کی کوئی بات بادشاہوں کو اپنے حق حکمرانی کے خلاف براہ راست چیلنج دکھائی دینے لگی۔ وہ ایسی دعوت کے لیے آخری حد تک بے برداشت (intolerant) ہو گئے۔ جب کہیں کوئی داعی توحید کا پیغام لے کر اٹھتا، اس کو فوراً سیاسی طاقت کے زور پر کچل دیا جاتا۔
اس صورت حال کے مسلسل جاری رہنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ و تہذیب میں شرک کا تسلسل قائم ہو گیا ۔ اب جو بھی مرد یا عورت پیدا ہوتے وہ اسی مشرکانہ ماحول میں پیدا ہوتے اور ماحول اور نظام کے اثر سے وہ مکمل طور پر اسی کے رنگ میں رنگ جاتے۔ اس طرح شرک
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues