دو عظیم کردار
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۳
دو عظیم کردار
ایک روایت کے مطابق، حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے علم حدیث محفوظ کیا تھا، پھر میں نے اس کو خوب پھیلا دیا (فتنہ، فتح الباری ٢٦١/١ یہ بث حدیث یا حدیث رسول کو آپ کے بعد لوگوں تک پہنچانا، کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک عظیم منصوبہ الہیٰ تھا جس کی تکمیل خاص طور پر دورِ اول کی دو اسلامی شخصیتوں کے ذریعہ انجام پائی۔ ایک ابو ہریرہ (عبد الرحمن) بن صخر، اور دوسرے عائشہ بنت ابی بکر صدیق۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ایک خاص زمانہ میں ہوئی۔ مگر آپ خاتم النبیین تھے۔ اس لیے آپ کی تعلیمات کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کے لیے ضروری تھا کہ وہ کامل صورت میں محفوظ رہیں۔ تحفظ سنت کا یہ کام دور پرلیں سے پہلے کے حالات میں صرف زندہ انسان ہی انجام دے سکتے تھے۔ جو آپ کی ہر چیز کو براہ راست دیکھ کر اور سن کر محفوظ کر لیں۔ اور پھر لمبی مدت تک لوگوں کو اسے سنتے اور بتاتے رہیں۔ تاکہ بعد کو آنے والی نسلیں اس سے محروم نہ رہیں۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے ایسے افراد کی ضرورت تھی جو دوسری ضروری صلاحیتوں کے ساتھ کم عمر بھی ہوں۔ تاکہ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد وہ لمبے عرصہ تک باقی رہیں۔ رسول اللہ کا اہم عمر آدمی اس کام کے لیے موزوں نہیں تھا۔ کیوں کہ آپ کے ساتھ اس کی بھی وفات ہو جاتی اور پھر اچانک روایت حدیث کا تسلسل ختم ہو جاتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت عائشہؓ دو تاریخی شخصیتیں ہیں، جن کو خدا نے خاص طور پر اس کام کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ ایک کو آپ کے صحابی کی حیثیت سے اور دوسرے کو آپ کی اہلیہ کی حیثیت سے۔ یہ دونوں کم عمری میں رسول اللہؐ سے وابستہ ہو گئے ۔ اور رسول اللہ کی وفات کے بعد دونوں تقریباً پچاس سال تک دنیا میں باقی رہے۔ اور آپ کے حق میں زندہ ٹیپ ریکارڈر کا کام کرتے رہے۔
رسول اللہؐ کی وفات ٥١ھ (٦٣٢) میں ہوئی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ کی وفات ۵۸ھ (۶۷۸) میں اور حضرت ابو ہریرہؓ کی وفات ۵۹ھ (۶۷۹) میں۔ آپ کے بعد ان دونوں
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues