Al-Risala · December 1996 · page 24

روایات عائشہ ۲۲۱۰ ، روایات ابو ہریرہ ۵۳۷۴

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۴

کے ذریعہ جو احادیث امت کو ملیں ان کی تعداد حسب ذیل ہے :

روایات عائشہ ۲۲۱۰ ، روایات ابو ہریرہ ۵۳۷۴

حضرت ابو ہریرہ کا کام اصلاً احادیث رسول کو یاد رکھنا اور ان کو امت تک منتقل کرنا تھا۔ اس کام کے لیے جو خاص صلاحیت درکار تھی وہ حافظہ ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ اس معاملہ میں خود شناس تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ انھیں اسلام کی تاریخ میں کیا کردار ادا کرنا ہے اور اس کے لیے ان کو کون سی صلاحیت درکار ہے۔ چنانچہ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول ، میں آپ کی باتیں سنتا ہوں مگر ان میں سے بہت سی باتیں بھول جاتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے لیے دعا کرو۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ نے دعا کی اور کہا : (اللهم انی اسالك علماً لاينسی (اے اللہ! میں تجھ سے نہ بھولنے والا علم مانگتا ہوں) حضرت ابو ہریرہ نے جب یہ دعا کی تو رسول اللہ نے اس پر آمین کہی یعنی اے اللہ ! تو ابو ہریرہ کی اس دعا کو قبول فرما ۔ یہ دعا قبول ہوئی ۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کوئی سنی ہوئی بات کبھی فراموش نہیں کی (دفما نسيت شيئاً بعد فتح الباری ۶۰/۱ - ۲۵۹)

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے بعد میں نے آپ کی جو بات بھی سنی وہ مجھے پوری طرح یاد ہو گئی (فوالذي بعثه بالحق مانسيت بعد ذلك ) شيئاً سمعته منه) صفحہ ۲۶۰ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اللہ کی مدد سے حضرت ابو ہریرہ کو وہ چیز حاصل ہو گئی جس کو آج کل کی زبان میں تصویری حافظہ (photographic memory) کہا جاتا ہے۔ اس طرح ان کے لیے ممکن ہو گیا کہ رسول اللہ کی ہر سنی ہوئی بات انھیں یاد رہے اور آپ کی وفات کے بعد کے تقریباً نصف صدی تک لوگوں کو علم نبوت پہنچاتے رہیں۔ دورِ پریلیس سے پہلے حدیث کی حفاظت اور اشاعت کی یہی واحد ممکن صورت تھی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ کو خصوصی طور پر اس مقصد کے لیے استعمال فرمایا۔

۲۔ حضرت عائشہ بنت ابی بکر الصدیق ہجرت سے ۹ سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں۔ روایات

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page