Al-Risala · December 1996 · page 25

روایات عائشہ ۲۲۱۰ ، روایات ابو ہریرہ ۵۳۷۴

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵

کے مطابق رسول اللہؐ سے ان کا نکاح ہوا تو ان کی عمر اس وقت تقریباً چھ سال تھی۔ اٹھارہ سال کی عمر تک وہ رسول اللہؐ کی صحبت میں رہیں۔ یہاں تک کہ رسول اللہؐ کی وفات ہوگئی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ حضرت عائشہ پیدائشی طور پر نہایت زیرک تھیں۔ وہ بلاشبہ ان استثنائی شخصیتوں سے تھیں جن کو تخلیقی ذہن (creative mind) کہا جاتا ہے۔ ان کی یہی اعلیٰ صلاحیت وہ اصل سبب تھا جس کی بنا پر وہ زوجیت رسولؐ کے لیے چنی گئیں۔

اس نکاح کا اصل مقصد ایک ذہین خاتون کو اس کا موقع دینا تھا کہ وہ رسولؐ کے ساتھ رہ کر علم نبوت کو بھر پور طور پر اخذ کرے اور آپ کے بعد اسے لمبے عرصہ تک لوگوں تک پہنچاتی رہے۔ اس مقصد کے اعتبار سے بلاشبہ کم عمری کا نکاح ہی کارآمد ہوسکتا تھا۔ نفسیاتی تحقیق کے مطابق ۱۰ سال تک کی عمر کا زمانہ کسی مرد یا عورت کے لیے تشکیلی زمانہ (formative period) ہوتا ہے۔ اس عمر میں آدمی جیسا بن جاتا ہے وہ ہمیشہ ہی ویسا رہتا ہے۔ چنانچہ حکمت ربانی سے اسی اہم مرحلہ عمر میں حضرت عائشہ کو پیغمبر اسلام سے وابستہ کر دیا گیا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر حضرت عائشہ کے لیے معروف معنوں میں صرف ازدواجی گھر نہ تھا بلکہ فن تعلیم کی اصطلاح میں وہ ان کے لیے ایک مدرسہ تیاری (preparatory school) تھا۔ یہاں اٹھارہ سال کی عمر تک رہ کر وہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ تیار کی گئیں تاکہ اس کے بعد وہ کردار ادا کرنا ان کے لیے ممکن ہو جائے جو تقدیر الہی کے مطابق انہیں تاریخ میں ادا کرنا تھا۔

حضرت عائشہ کی لیاقت کے بارے میں لوگوں نے بہت اعلیٰ رائے دی ہیں۔ مثلاً عطا بن ابی رباح نے کہا : کانت عائشۃ افقه الناس واعلم الناس (عائشہ سب سے زیادہ فقیہہ اور سب سے بڑی عالم تھیں) حضرت موسیٰ الاشعری کہتے ہیں کہ اصحاب محمد کے سامنے جب بھی کوئی مشکل مسئلہ آتا تو وہ عائشہ سے پوچھتے اور ان کے پاس وہ اس کا علم پا لیتے (البدایہ والنہایہ ۱۶/۸) الحافظ، ابو عبد اللہ شمس الدین الذہبی (م ۷۴۸ ھ) نے لکھا ہے کہ عائشہ فقہاء صحابہ میں سب سے عظیم تھیں (کانت اکبر فقہاء الصحابة) تذکرة الحفاظ ۲۷/۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری ازواج کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ وہ ان سے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page