Al-Risala · December 1996 · page 30

روایات عائشہ ۲۲۱۰ ، روایات ابو ہریرہ ۵۳۷۴

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۰

اپنے ذاتی مذہب پر جینا ہے۔ اس کا کوئی ایسا فارمولا نہیں جو کسی سابق مقدس کتاب میں موجو ہو، بلکہ ہر ایک کو اپنا مذہب خود دریافت کرنا ہے:

اسی کے ساتھ مضمون میں بہت گیا تھا کہ گاندھی جی یہ کہتے تھے کہ ہر گھر کے اندر بجلی ہونا چاہئے :- ان سطروں کو پڑھتے ہوئے میں نے سوچا کہ گاندھی جی (اور ان کے جیسے دوسرے لوگ ) سچائی کو پانے کا جو طریقہ بتاتے ہیں، وہی طریقہ اگر وہ بجلی کے حصول کے لئے بھی بتائیں تو کسی ایک گھر میں بھی بجلی موجود نہ ہو۔ آج یہاں گھر گھر میں بجلی ہے۔ مگر وہ اس طرح نہیں پہنچی ہے کہ ہر ایک شخص نے خود اپنی کوشش سے بجلی کو دریافت کر کے اس کا نظام بنایا، اس کے برعکس، ماضی میں دریافت شدہ علم کو استعمال کر کے ہر آدمی اپنے گھر کو بجلی سے روشن کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

یہی اصول سچائی کے لئے بھی ہے۔ خدا کے پیغمبر پر حقیقت منکشف ہو چکی ہے۔ اب ہمارا کام یہ ہے کہ اس سے سچائی کی روشنی لے کر اپنی فکر کو منور کریں۔ اگر ہر آدمی خود اپنی کوشش سے سچائی کو معلوم کرنے لگے تو ساری دنیا ہمیشہ کے لئے گمراہی کے اندھیرے میں پڑی رہے گی۔

فلائٹ میگزین میں ایک مضمون تفریح (entertainment) کے اوپر تھا۔ اس کی ایک سطر یہ تھی ــــ اے آر رحمان، دھن کے نئے بادشاہ :

اس کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان ملیں گے جنھوں نے ادبیات، شاعری، خطابت، مصوری، نشانہ بازی، کھیل اور فنون لطیفہ جیسے شعبوں میں کمال کا مظاہرہ کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page