Al-Risala · December 1996 · page 31

روایات عائشہ ۲۲۱۰ ، روایات ابو ہریرہ ۵۳۷۴

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱

مگر ایسا کوئی مسلمان موجودہ زمانہ میں نہیں ابھرا جو سائنس ، ٹکنالوجی اور عصری افکار جیسے شعبوں میں کمال کا ثبوت دے سکے ۔ وہ آرٹ کے پہلوان تو ثابت ہوئے مگر حقائق کے میدان میں وہ مینار بن کر کھڑے نہ ہو سکے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا اصل سبب یہی ہے نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کی سازشیں اور مؤامرات۔

نمسکار کے صفحہ ۱۳ پر اسکائی فون (sky phone) کا اشتہار تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اس جہاز کے اندر اسکائی فون (عالمی ٹیلیفون) کا انتظام ہے۔ آپ اس کے اندر سے دنیا کے کسی بھی مقام پر ٹیلیفون کر سکتے ہیں۔ یہاں پوری دنیا آپ کی انگلیوں کے نیچے ہے: The world at your finger tips... چارج کی ادائیگی کے سلسلہ میں بتایا گیا تھا کہ آپ اپنے ٹیلیفون کا بل بین الاقوامی طور پر تمام قابل قبول کریڈٹ کارڈ یا کرنسی کے ذریعہ ادا کر سکتے ہیں۔ مثلاً امریکن ایکسپریس ، ماسٹر کارڈ، یورو کارڈ ، گریٹ وال کارڈ وغیرہ ۔ اس سلسلہ میں قابل قبول کرنسی کے تحت "دینار" کا نام بھی لکھا ہوا تھا۔ مگر کئی بار پڑھنے کے باوجود اس میں ہندوستانی روپیہ یا ہندوستانی کارڈ کا نام کہیں نہیں ملا ۔ یہ ہمارے ملک کی حالت نہ صرف دنیا میں ، بلکہ خود ہماری نیشنل سروس ایر انڈیا میں بھی ہے۔ ہندوستانی لیڈروں کے کرنے کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ ملک کو اس اقتصادی پچھڑے پن سے نکالیں ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی دوسری چیز ملک کو عالمی نقشہ پر با عزت مقام نہیں دے سکتی۔ دہلی سے روم کا فاصلہ ۴۳۹۰ کلو میٹر ہے۔ یہ ایک براہ راست فلائٹ تھی۔ سوا آٹھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز روم کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ اس وقت مقامی ٹائم کے لحاظ سے صبح ساڑھے دس بجے کا وقت تھا۔ میں اور جسٹس کھنہ جہاز سے نکل کر باہر آئے۔ میرا معاملہ نہایت عجیب ہے۔ میں اپنے عجز کی بنا پر ہمیشہ اس اندیشہ میں مبتلا رہتا ہوں کہ میں ایک اجنبی دیس میں جا رہا ہوں ۔ وہاں ایئرپورٹ پر اتروں گا تو کیا ہوگا۔ وہاں میری مدد کے لئے کوئی شخص موجود نہ ہو تو میں کیا کروں گا ۔ اور کہاں جاؤں گا ۔ روم کے ہوائی اڈہ میں داخل ہوا تو وہاں بھی شدت کے ساتھ یہی احساس میرے اوپر چھایا ہوا تھا ۔ مگر یہاں بالکل مختلف معاملہ پیش آیا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page