روایات عائشہ ۲۲۱۰ ، روایات ابو ہریرہ ۵۳۷۴
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۲
روم کے ایرپورٹ پر ساؤتھ انڈیا کے ایک صاحب منیجر کی حیثیت میں ہیں۔ ان کا نام مسٹرٹی ایس بالا سبرانیم (563-4630 .Tel) ہے۔ وہ وکی ٹاکی اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہم دونوں کور سیو کرنے کے لئے جہاز کے باہر موجود تھے۔ اس کے علاوہ خود ایئر انڈیا کے پبلک ریلیشنز آفیسر مسٹر ڈیش مکھ بھی ہماری رہنمائی کے لئے آگئے تھے۔ ہوائی جہاز سے اتر کر ہم لوگ ایئرپورٹ کے احاطہ میں داخل ہوئے تو یہ دونوں وہاں ہمارے منتظر تھے۔ اس کے علاوہ کانفرنس کی طرف سے ڈاکٹر فرانسسکو (Dr. Francesco) وغیرہ بھی آئے ہوئے تھے۔
چنانچہ معاملہ میرے اندیشہ کے بالکل برعکس ہوا۔ روم میں ایرپورٹ پر کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ انھوں نے ہم کو لے جا کر وی آئی پی لاؤنج میں بٹھا دیا۔ پاسپورٹ لے کر انھوں نے خود یہاں کی ضروری کارروائی مکمل کر دی۔ میں یہ غیر متوقع منظر دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ خدایا، آخرت کی دنیا میں جب میرا داخلہ ہو تو وہاں بھی تو میرے ساتھ اسی طرح آسانی کا معاملہ فرما۔ وہاں بھی تو رحمت کے فرشتوں کو میرے استقبال کے لئے کھڑا کر دے۔ اس کے بعد بذریعہ کار فلارنس کے لئے روانگی ہوئی جہاں کانفرنس کی کارروائیاں ہونے والی تھیں۔ یہ چار گھنٹہ کا سفر تھا۔ ہمارے ڈرائیور ایک تعلیم یافتہ نوجوان سارجیو (M. Sargio) تھے۔ وہ انگریزی جانتے تھے اس لئے رابطہ میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی۔ یہ ایک بڑا خوشگوار سفر تھا۔ سڑک نہایت عمدہ تھی جس پر کار ۱٣۵ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھسلتی چلی جا رہی تھی۔ پورے سفر میں ایک بار بھی ہارن کی آواز سنائی نہیں دی۔ سڑک کے دونوں طرف سرسبز پہاڑیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ کھیتوں اور باغوں کے درمیان جگہ جگہ خوبصورت مکانات تھے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ سب جنت کا بعید تعارف ہے۔ یہ چیزیں دنیا میں ناقص صورت میں ہیں۔ آخرت میں وہ کامل اور مکمل صورت میں خدا کے نیک بندوں کو دی جائیں گی (وَا توبہ متشابھا)
درمیان میں ہم لوگ کچھ دیر کے لئے ایک سروس اسٹیشن پر رکے۔ سروس اسٹیشن کا جو تصور ہندوستان میں ہے یہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ یہ ایک چھوٹی سی خوبصورت دنیا تھی جس میں گاڑی کی ضرورت کے ساتھ انسان کی ضرورت کی تمام چیزیں نہایت سلیقہ کے ساتھ جمع کر دی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues