Al-Risala · December 1996 · page 33

You are paying the price of being sensitive.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳

تھیں ۔ اس کو سروس اسٹیشن کے بجائے رسٹ ہاؤس کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔

۱۹۴۷ میں آزادی کے بعد جو پہلی پارلیمنٹ بنی اس کے ایک ممبر کلکتہ کے پروفیسر ہیرن کرجی تھے۔ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لئے کلکتہ سے دہلی آئے۔ فراغت کے بعد جب وہ بذریعہ ٹرین واپس جانے لگے تو ریلوے لائن کے دونوں طرف انھیں جھگی جھونپڑی کی قطاریں نظر آئیں۔ انھوں نے غربت اور گندگی کے مناظر دیکھے۔ کلکتہ پہنچ کر انھوں نے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو خط بھیجا۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ جب میں فرسٹ کلاس میں سفر کرتے ہوئے ان بستیوں سے گزرا تو مجھے خیال آیا کہ یہ لوگ اگر مجھ سے پوچھیں کہ ہندوستان کی آزادی سے ہم کو کیا ملا تو میں انھیں کیا جواب دوں گا۔ جواہر لال نہرو نے اس کے جواب میں لکھا کہ اصل بات یہ ہے کہ تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو:

You are paying the price of being sensitive.

یہ بلاشبہ ایک غلط جواب تھا، پنڈت نہرو کو چاہئے تھا کہ وہ اس خط کو پڑھ کر تڑپ اٹھتے ۔ اپنے تمام ساتھیوں کو اسے پڑھاتے اور کہتے کہ اب آزادی کے بعد ہمیں سب سے پہلا کام یہی کرنا ہے کہ ملک کو غریبی اور جہالت کی دلدل سے نکالیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو آج ہندوستان بھی یورپ کی مانند ایک ترقی یافتہ ملک ہوتا۔

جسٹس کھنہ نے ایک ملاقات میں صحیح کہا کہ آزادی کے بعد کام کی جو مدت ہندوستان کو ملی وہی مدت سنگاپور، کوریا ، ملیشیا اور جاپان کو بھی ملی۔ مگر آج حالت یہ ہے کہ وہ ممالک ترقی کے اعلیٰ درجہ کو پہنچ چکے ہیں اور ہندوستان کی حالت یہ ہے کہ وہ دنیا کے چند سب سے زیادہ پسماندہ ملکوں کی فہرست میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔

فلارنس میں قیام کا انتظام ایک تاریخی عمارت میں کیا گیا تھا۔ یہ عمارت کئی سو سال پہلے مانسٹری کے طور پر بنائی گئی تھی۔ اس کا نام کا نو بیٹو (Convitto Ecclessiale) ہے۔ اس کو از سر نو جدید معیار کے مطابق درست کیا گیا ہے۔ آجکل وہ زیادہ تر مسیحی پیشواؤں کے گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یہاں میں کمرہ نمبر ۴۰ میں تھا اور جسٹس کھنہ کمرہ نمبر ۳۸ میں۔ یہ ایک پرشوکت بلڈنگ ہے جو پتھروں سے بنائی گئی تھی۔ باہر سے وہ قدیم مگر اندر سے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page