The present glory of Florence is its Past.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۵
ہوں۔ یہ عام طور پر کسی چرچ کے پاس ہوتی تھی۔ اب غالباً نئی مانسٹری نہیں بنائی جاتی۔ تاہم قدیم زمانہ کی مانسٹریان کثرت سے یورپ کے مختلف مقامات پر پائی جاتی ہیں۔ مانسٹری کو ابیے (Abbey) بھی کہا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی ایک عمارت انگلینڈ میں ہے جو ویسٹ منسٹر ابیے (Westminster Abbey) کے نام سے مشہور ہے۔ مانسٹری کا طرزِ عام طور پر یکساں ہوتا ہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں روم کے زوال کے بعد یہی مذہبی ادارے تعلیم اور اشاعت کا مرکز بن گئے (15/223)
فلارنس وسط اٹلی کا ایک تاریخی شہر ہے۔ اس کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ ہے۔ کسی زمانہ میں وہ اٹلی کی راجدھانی تھا۔ روم سے وہ ۴۵ میل دور ہے۔ فلارنس میں ہر طرف تاریخی آثار پھیلے ہوئے ہیں۔ قدیم عمارتیں، آرٹ کے نمونے، وغیرہ، یہاں بہت بڑی بڑی شخصیتیں پیدا ہوئیں. مثلاً لیو نارڈو، مائیکل اینجلو، دانتے، میکیا ویلی، گلیلیو وغیرہ۔ فلارنس کی موجودہ عظمت اس کے اسی ماضی کی بنا پر ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے کہا:
The present glory of Florence is its Past.
فلارنس کو رومیوں نے پہلی صدی قبل مسیح میں آباد کیا تھا۔ تیسری صدی عیسوی میں وہ سیاسی راجدھانی بنا۔ اور اس کی اقتصادی اہمیت کافی بڑھ گئی۔ قرون وسطیٰ کے زمانہ میں مسلمانوں کی علمی ترقی کے اثرات فلارنس تک پہنچے تھے۔ مثلاً ماسٹر جیکب (Master Jacob) جو یہیں کا رہنے والا تھا، اس نے ۱۳۰۷ء میں اطالین زبان میں میتھمیٹکس پر ایک رسالہ تیار کیا۔ اس میں الجبرا کی دو درجی مساوات (quadratic equations) کے ان چھ طریقوں کو بیان کیا گیا تھا جو اس زمانہ کے مسلم حساب دانوں نے وضع کیا تھا۔ (ہٹی، صفحہ ۸۰-۳۷۹) میرے کمرہ کی دیوار پر ایک بالشت لمبی لکڑی کی صلیب (†) لگی ہوئی ہے۔ اس کے اوپر حضرت مسیح کی ایک مزعومہ تصویر مصلوب حالت میں لٹکی ہوئی ہے۔ شاید اسی طرح یہاں کے تمام کمروں میں اس قسم کی صلیب لگی ہوئی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues