The present glory of Florence is its Past.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶
میرا مزاج یہ ہے کہ اس طرح کی کسی چیز کو دیکھ کر میرے اندر غصہ یا جھنجھلاہٹ کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ بلکہ میں اس کی حقیقت پر غور کرنے لگتا ہوں۔ چنانچہ اس کو دیکھ کر میں سوچنے لگا خیال آیا کہ مسیحیوں کے نزدیک، اپنے عقیدہ 0 کے مطابق، ان کے پیغمبر کی تصویر یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بھلائی کے لئے قربان ہو گیا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی اپنی تاریخ کے مطابق ان کے ذہن میں اپنے پیغمبر کی تصویر یہ ہے کہ اس نے دوسروں سے لڑاکرا ن کے اوپر غلبہ حاصل کیا۔ مذکورہ مسیحی عقیدہ اور مذکورہ مسلم تاریخ نے دونوں قوموں کی مزاج سازی میں نہایت گہرا کردار ادا کیا ہے۔ اس کی وجہ سے مسیحیوں میں عام طور پر تواضع، خدمت خلق اور دوسروں کے لئے رحمت ورأفت کے جذبات ہوتے ہیں (الحديد ۲۷) دوسری طرف مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان میں احساس برتری، دوسروں کے لئے عدم اعتراف اور بزور و سرور کے اوپر غلبہ حاصل کرنے کا مزاج عام ہے۔
میرا احساس یہ ہے کہ جس طرح مسیحی عقیدہ غلط ہے۔ اسی طرح بعد کے مسلمانوں کی مرتب کی ہوئی اسلامی تاریخ بھی اصل واقعه کے مطابق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسیح ابن مریم اور محمد بن عبد اللہ دونوں ہی خدا کے پیغمبر تھے۔ دونوں نے ایک ہی دین خداوندی کی تعلیم دی دونوں کا پیغام یہ تھا کہ انسان کو خدا کا فرماں بردار بندہ بن کر رہنا چاہئے۔ انسان کو یہاں آخرت کا طالب بن کر زندگی گزارنا چاہئے نہ کہ دنیا کا طالب بن کر۔ دونوں میں جو اصلی فرق ہے وہ باعتبار پیغام نہیں ہے بلکہ باعتبار محفوظیت ہے۔ یعنی حضرت مسیح کا پیغام آج محفوظ حالت میں نہیں پایا جاتا۔ جب کہ حضرت محمد کا پیغام آج بھی پوری طرح محفوظ اور قابل اعتبار حالت میں، ہمارے پاس موجود ہے۔
عام طور پر میں صبح کو فجر سے کچھ پہلے اٹھ جاتا ہوں۔ مگر آج فلارنس میں پہلی رات تھی، سویرے سے نیند نہیں کھلی۔ ۲۱ اکتوبر کی صبح کو میں اپنے کمرہ (نمبر ۴) میں سو رہا تھا کہ اچانک دروازہ پر کھٹکھٹانے کی آواز سنائی دی۔ اٹھ کر دروازہ کھولا تو وہاں کوئی شخص موجود نہ تھا۔ اس کے بعد گھڑی دیکھی تو مقامی وقت کے لحاظ سے ساڑھے پانچ بج رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے یہ خدا کا فرشتہ تھا جو ٹھیک آغاز فجر کے وقت آیا۔ اور بہت گیا کہ اٹھو، خدا کو یاد کرو،
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues