The present glory of Florence is its Past.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۷
کیوں کہ نماز فجر کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ میرے دل نے کہا کہ خدا یا، میں ایک عاجز انسان ہوں۔ اسی طرح جب میں غفلت میں پڑوں تو مجھے آگاہ کر دے، جب میں بھولنے لگوں تو اپنی رحمت سے تو مجھے یاد دلا دے۔
اٹھ کر فجر کی نماز پڑھی۔ خیال آیا کہ شاید میں پہلا شخص ہوں جو یہاں نماز ادا کر رہا ہے۔ جو تثلیث کے گھر میں توحید کا اقرار کر رہا ہے۔
اتفاق سے یہاں ایک پاکستانی مسلمان مل گئے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے ، میں نے خدا کو چھوا ہے۔ اس قسم کی بات بولنا تو کفر ہے۔ پھر آپ کیسے ایسا کہتے ہیں۔
میں نے کہا کہ اس قسم کا کلام ہمیشہ مجازی کلام ہوتا ہے۔ مجازی کلام میں ہمیشہ گویا کہ یا جیسے کہ محذوف ہوتا ہے۔ مثلاً، اگر میں کہوں کہ آپ شیر ہیں تو یہ جملہ حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں ہوگا۔ یعنی گویا کہ آپ شیر ہیں۔ آپ شیر کی طرح بہادر ہیں۔ اگر کوئی شخص اس جملہ کو سن کر کہے کہ وہ تو دو پاؤں پر چلتے ہیں۔ وہ پنجہ نہیں رکھتے ، پھر آپ نے ان کو شیر کیسے کہہ دیا تو یہ ایک لغو بات ہوگی نہ کہ کوئی حقیقی اعتراض۔
پھر میں نے کہا کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ خود اپنی بے بصیرتی کا ثبوت دیتے ہیں۔ خدا کے بارہ میں اس قسم کی قربت کا احساس تو عین جزو ایمان ہے۔ جو ہر مومن کو ہونا چاہئے۔ دنیا میں اگر آپ پر واسجد واقترب والا تجربہ نہیں گزرا۔ اگر آپ نے کبھی تعبد اللہ کا نک تراہ کا مشاہدہ نہیں کیا۔ اگر آپ پر یہاں سجدہ تچاہک جیسا واقعہ نہیں آیا۔ اگر آپ پر وہ کیفیت نہیں بیتی جس کو حدیث میں بینا جی ربہ کے لفظوں میں بیان کیا گیا ہے تو آپ نے دین کا صرف چھلکا پایا ، دین کا مغز آپ کو نہ مل سکا۔
اس سفر میں کانفرنس کی طرف سے روم کے ڈاکٹر لیونارڈو کو میرا ساتھی اور گائیڈ بنایا گیا تھا: Dr. Leonardo Palmobi (Tel. 5803140, 7259 614)
وہ نہایت سادہ اور نہایت سنجیدہ آدمی ہیں۔ وہ قرآن کی اس آیت کا مکمل مصداق ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اور جن لوگوں نے عیسی بن مریم کی پیروی کی ان کے دلوں میں، ہم نے شفقت
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues