The present glory of Florence is its Past.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۸
اور رحمت رکھ دی ہے (الحدید، ۲۷)
افریقہ سے آنے والے ایک صاحب نے کہا کہ آپ ایک علمی آدمی ہیں۔ پھر بھی آپ اس طرح کی کانفرنسوں میں آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کانفرنسوں میں ہمیشہ میں بادل ناخواستہ ہی جاتا ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ میں ذاتی طور پر ایک علم پسند آدمی ہوں۔ میری سب سے زیادہ محبوب چیز کتابوں کا مطالعہ ہے۔ اس طرح کی کانفرنس کے لئے سفر کرنا میرے لئے گویا مطالعہ کے تسلسل کو توڑنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ تاہم ان کانفرنسوں کا ایک خاص فائدہ ہے جو کہیں اور سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اور میں ذاتی طور پر اسی فائدہ کے لئے وہاں جاتا ہوں ۔ وہ یہ کہ اس طرح کی کانفرنسوں میں دنیا بھر کے دانشور اور اہل فکر اکٹھا ہوتے ہیں۔ یہاں عالمی ذہن کے مطالعہ کا موقع ملتا ہے۔ یہی خاص وجہ ہے جس کے لئے ذاتی بے رغبتی کے باوجود میں کانفرنس کی دعوت کو قبول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔
تاہم اس طرح کی کانفرنسوں سے مذکورہ فائدہ حاصل کرنے کی ایک لازمی شرط ہے۔ اور وہ اجنبی یا مخالف فکر کو کھلے ذہن سے سننے کی صلاحیت ہے۔ آپ کے اندر یہ ماد ہونا چاہئے کہ آپ اپنے فکری سانچے سے باہر آکر دوسروں کی بات کو سن سکیں ۔ میرے اندر خدا کے فضل سے یہ صفت ہے کہ ایک طرف مجھے اپنے نقطہ نظر پر کامل یقین ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ میرا ذہن فی الفور اس کے لئے تیار ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی فکر کو الگ رکھتے ہوئے فریق ثانی کی بات کو خود اس کے اپنے زاویہ نگاہ سے سن سکے ۔ یہ صفت غالباً میرے اندر پیدائشی طور پر ہے، اور اس سے مجھے غیر معمولی فائدے حاصل ہوئے ہیں۔
۲۱ اکتوبر کی صبح کو میں اور جسٹس کھنہ فلارنس دیکھنے کے لئے نکلے۔ رہنمائی کے لئے ہمارے ساتھ ڈاکٹر لیونارڈو موجود تھے، شہر کے اکثر خاص حصے دیکھے۔ بمبئی کی طرح یہاں ملتی اسٹوری بلڈنگوں کی لائنیں نہیں ہیں۔ تقریباً تمام عمارتیں پتھر کی بنی ہوئی نظر آئیں ۔ ان کی وضع قدیم طرز کی تھی جس میں ایک خاص عظمت جھلک رہی تھی۔ یہ شہر دریائے آرنو (Arno) کے دونوں طرف آباد ہے۔ دریا کے اوپر جگہ جگہ پل بنے ہوئے ہیں۔ ایک پل کے دونوں طرف دومنزلہ دکانیں بنی ہوئی تھیں ۔ جگہ جگہ پتھر کے اسٹیچو اور چرچ دکھائی دئے۔ ایک جگہ بہت بڑے سائز
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues