نماز با جماعت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۰
نماز با جماعت
عن عبد اللہ بن عمر أن رسول اللہ حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: صلاة الجماعة علیہ وسلم نے فرمایا۔ جماعت کے ساتھ نماز تنہا نماز کے تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة مقابلہ میں ۲۷ درجہ افضل ہے۔
(موطا الامام مالک ۹۳)
نماز کی مطلوبہ کیفیات جماعت کی نماز میں بڑھ جاتی ہیں۔ اس لئے اس کا ثواب بھی اللہ کے یہاں تنہا نماز کے مقابلہ میں زیادہ ہو جاتا ہے۔
جماعت کی نماز کے لئے آدمی کو پہلے سے سوچنا پڑتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے ۔ اب مجھ کو مسجد چلنا چاہئے ۔ اس طرح نمازی کا ذہن پیشگی طور پر عبادت کی سوچ میں لگ جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے گھر سے نکل کر مسجد کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ ہر قدم اس کو یاد دلاتا ہے کہ تم خدا کی عبادت کے لئے جارہے ہو۔ اس طرح گویا وہ نماز سے پہلے نماز میں مشغول ہو جاتا ہے۔
مسجد میں اس کو نماز کا پورا ماحول ملتا ہے۔ یہاں وہ محسوس کرتا ہے کہ میں اکیلا نمازی نہیں ہوں۔ بلکہ میں ایک وسیع نمازی برادری میں شامل ہوں۔ پہلے اس کی حیثیت اگر صرف نماز پڑھنے والے کی تھی تو اب اس کی حیثیت نماز قائم کرنے والے کی بن جاتی ہے۔
پھر جماعت کی نماز خود اپنے اندر عظیم ثواب رکھتی ہے۔ اکیلے کی نماز میں گویا کہ وہ اپنا امام آپ تھا۔ یہاں اس نے دوسرے کی امامت میں نماز ادا کر کے مزید تواضع اور خشوع کا ثبوت دیا۔ اکیلے کی نماز میں اس نے اپنے انفرادی اسلام کا احساس تازہ کیا تھا۔ جماعت کی نماز میں اس نے دوسرے ہم مذہبوں کے ساتھ اجتماعی اسلام کا زندہ تجربہ کیا۔ اکیلے کی نماز میں اس نے ایک فرد کی سطح پر فیضان خداوندی کو پایا تھا، جماعت کی نماز میں وہ پورے مجموعہ پر اترنے والے فیضان خداوندی میں شریک ہوگیا۔ اسی کے ساتھ جماعت کی نماز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آدمی مسجد کے مقدس ماحول میں اپنے دوسرے بھائیوں سے جڑ جاتا ہے۔ وہ ان سے سیکھتا بھی ہے اور ان کو سکھاتا بھی ہے۔ وہ ان سے پاتا بھی ہے اور انھیں دیتا بھی ہے۔ اکیلے کی نماز میں اس نے اگر صرف نماز ادا کی تھی تو جماعت کی نماز میں وہ پورے اسلام کو ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues