Al-Risala · December 1996 · page 40

The present glory of Florence is its Past.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۰

۲۱ اکٹوبر کو شام کا کھانا سینٹ میری مانسٹری میں تھا۔ یہ کافی بڑی عمارت ہے اور نہایت عمدہ بنی ہوئی ہے۔ اس کے وسیع ہال میں آنے والوں کی کافی تعداد اکٹھا تھی۔ ہر طرف دھیمی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ میں جس میز پر کھانے کے لئے بیٹھا، اس پر مختلف ملکوں کے لوگ تھے۔ اٹلی، جرمنی، ایتھوپیا وغیرہ۔ زیادہ تر تفریحی انداز کی باتیں ہو رہی تھی۔ جرمنی سے آنے والے ایک صاحب نے ایتھوپیا کے نمائندہ سے پوچھا کہ آپ کا ملک کیا چیزیں ایکسپورٹ کرتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ چائے۔ پوچھنے والے نے کہا کہ پھر تو آپ دنیا کو اس کی انرجی سپلائی کر رہے ہیں۔ دہلی کے آریہ سماجی لیڈر سوامی اگنی ویش بھی اس کانفرنس میں آئے ہیں۔ وہ شراب کو عنوان بنا کر سماجی اصلاح کی مہم چلا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ شراب نوشی کی جڑیں تو ملک میں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ اب اس کو اکھاڑ نا سخت مشکل نظر آتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ انھوں نے اپنا تجربہ بتایا کہ ہم لوگ ہریانہ میں گئے ۔ وہاں کے لوگوں نے کہا کہ اس ریاست میں تو شراب کا کارخانہ ہے۔ یہاں ۹۰ فیصد لوگ شراب پیتے ہیں۔ یہاں مشکل سے دس فیصد لوگ اس سے بچے ہوں گے۔ پھر آپ یہاں شراب بندی کی مہم کو کس طرح کامیاب کریں گے ۔ اس کے بعد ہم عملی تجربہ کے طور پر کئی گاؤں میں گئے ۔ وہاں کے لوگوں کو جمع کیا۔ ہم نے پوچھا کہ کیا تمہاری عورتیں شراب پیتی ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ ہم نے کہا کہ پھر تو آبادی کا ۵۰ فیصد یوں ہی اس سے الگ ہو گیا۔ پھر ہم نے پوچھا کہ کیا تمہارے بچے شراب پیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، ہم نے کہا کہ ۲۵ فیصد وہ بھی نکل گئے۔ اس کے بعد ہم نے پوچھا کہ تمہارے بڑے کیا سب کے سب شراب پیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب نہیں۔ ان میں سے کچھ پیتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ان میں سے ایک تعداد کو الگ کر لو۔ اس طرح جب دیکھو گے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page