The present glory of Florence is its Past.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۱
محروم ہوگا کہ معاملہ الٹا ہے۔ یعنی ۹۰ فیصد لوگ شراب نہیں پیتے، صرف ۱۰ فیصد لوگ شراب پیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہی اکثر معاملات میں ہوتا ہے۔ لوگ افواہوں کی بنیاد پر رائے قائم کر لیتے ہیں۔ تحقیق کر کے جاننے کی کوشش نہیں کرتے، حالانکہ اگر بات قاعدہ تحقیق کی جائے تو اکثر یہ پتہ چلتا ہے کہ اصل حقیقت کچھ تھی اور عوام میں کچھ اور مشہور ہوگئی۔ جسٹس کھنہ نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ دور درشن والوں نے مجھ سے پوچھا کہ یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں اس کا مخالف ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ اس پر میری پوری فیملی نے مجھ سے اختلاف کیا۔ لڑکا، لڑکی، بہو، سب نے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ تو ہونا ہی چاہئے۔
میں نے جسٹس کھنہ سے پوچھا کہ آپ نظریاتی بنیاد پر یونیفارم سول کوڈ کے مخالف ہیں یا عملی روپ پر۔ انھوں نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ یونیفارم سول کوڈ بجائے خود تو اچھی چیز ہے مگر اس کے لئے قانون جب بننا چاہئے جب کہ مسلمان بھی اس سے اتفاق کر لیں۔ گویا کہ جسٹس کھنہ کے معمولی طور پر وہی رائے رکھتے تھے جو ان کے گھر والوں کی رائے تھی۔ دہلی میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نے مجھ سے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ کے مسئلے کی نزاکت یہ ہے کہ ۹۹ فیصد ہندو اس کے حامی ہیں اور دوسری طرف ۹۹ فیصد مسلمان اس کے خلاف ہیں۔ میں نے سوچا کہ ایسی حالت میں یونیفارم سول کوڈ کے خلاف مسلمانوں کا محض شور وغل کرنا اور اس کو شریعت کے خلاف بتانا کافی نہیں۔ اس مسئلے کا حاصل یہ ہے کہ اس تصور کو عقلی دلائل کے ذریعہ غلط ثابت کیا جائے۔ کیوں کہ گورنمنٹ اگر قانون نہ بنائے تب بھی اصل مسئلہ شدید تر کدورت میں باقی رہے گا، اور وہ باہمی نفرت ہے۔ ۔۔
جسٹس کھنہ انتہائی بے تعصب اور دیانت دار آدمی ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک فیصلہ میں مسز اندرا گاندھی کو ناخوش کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نہ بن سکے۔ ورنہ وہ چیف جسٹس آف انڈیا کی حیثیت سے ریٹائر ہوتے۔ انھوں نے اپنے بہت سے قصے بتائے۔ انھوں نے کہا کہ آنچانی جے آر ڈی ٹاٹا ہمارے ان کے یہاں آئے ۔ اس وقت ان کی عمر ۸۰ سال سے زیادہ ہو چکی تھی۔ انھوں نے اپنی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues