Al-Risala · December 1996 · page 42

The present glory of Florence is its Past.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۲

حالت بتاتے ہوئے کہا: میں مولیہ تو کھا چکا، اب بیان پر رہ رہا ہوں۔

یہ اس انسان کی بات ہے جو موجودہ زندگی کو آخری زندگی سمجھتا ہو۔ لیکن جو آدمی یہ یقین رکھتا ہو کہ موجودہ زندگی کے بعد ایک اہم تر زندگی آنے والی ہے، اس کا تاثر اس سے مختلف ہوگا۔

جسٹس کھنا نے بتایا کہ انہیں اردو شاعری سے بہت دلچسپی ہے۔ لاہور میں انہوں نے اردو پڑھی تھی۔ اقبال اور غالب کا کلام وہ اکثر پڑھتے رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اردو شاعروں میں سب سے زیادہ کون آپ کو پسند ہے۔ انہوں نے بڑی محبت کے ساتھ اقبال کا نام لیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہماری حکومت کی نالائقی ہے کہ اس نے اقبال جیسے شاعر کی قدر نہیں کی۔ ۱۹۷۸ء میں جب پاکستان میں اقبال کی جنم صدی منائی گئی تو اس سے بھی شاندار طور پر اس کو ہمارے یہاں منایا جانا چاہئے تھا، مگر افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اس کے بعد انھوں نے بڑے شوق کے ساتھ اقبال کے کئی شعر سنائے۔

میں نے کہا کہ ہندوستان میں اقبال کے خلاف تعصب اس لئے ہے کہ انھوں نے کی تقسیم کا نظریہ پیش کیا۔ مگر جسٹس کھنا نے اس کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ انھوں نے کہا کہ میں تو ملک کے بٹوارہ کی ذمہ داری صرف کانگریس لیڈر شپ پر ڈالتا ہوں۔

انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے انھوں نے ایل کے آڈوانی سے کہا تھا کہ دیکھو آڈوانی، اجودھیا میں ایسا کام مت کرو، نا کہ میرے جیسے ہندو کو اس دیش میں رہتے ہوئے شرم آئے پھر جب بابری مسجد ڈھادی گئی تو دوبارہ دونوں کی ملاقات ہوئی۔ جسٹس کھنا نے مسٹر آڈوانی سے کہا کہ تم کو اجودھیا نہیں جانا چاہئے تھا اور نہ یہ کام کرنا چاہئے۔ آڈوانی نے کہا: کھنا جی، اب تو جو ہو گیا ہو گیا۔ اب آگے کی بات کیجئے۔

یہ ایک سیاست داں کی طرف سے اپنی زبان میں غلطی کا اعتراف تھا۔ ۶ دسمبر کے بعد مسلم دانشوروں اور مسلم لیڈروں کو چاہئے تھا کہ حالات کا مطالعہ کرکے وہ اس حقیقت کو جان لیتے۔ اگر وہ بروقت اس حقیقت کو جانتے تو وہ سمجھ لیتے کہ بابری مسجد کا انہدام دراصل اس تخریبی عمل کے اوپر فل اسٹاپ ہے۔ مگر اپنی بے خبری کی وجہ سے انھوں نے اس کو کاما سمجھ لیا۔ تمام

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page