The present glory of Florence is its Past.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۳
مسلم لیڈروں اور تمام مسلم دانشوروں نے انتہائی نادانی کے ساتھ یہ کہہ کر مسلمانوں کو ڈرانا شروع کیا کہ یہ آغاز ہے، اور اب یہ انتہا پسند عناصر اپنی فہرست کے مطابق تین سو یا تین ہزار مسجدوں کو ڈھانے کا سلسلہ شروع کرنے والے ہیں۔
تاہم حالات کے رخ نے اب خود ہی بتا دیا ہے کہ ۶ دسمبر اس تخریبی عمل کا اختتام تھا، وہ اس کا آغاز نہ تھا۔ اور یہ خود فطرت کا قانون ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کو راقم الحروف نے بابری مسجد کے حادثہ کے فوراً بعد ان الفاظ میں لکھا تھا کہ : انتقام اپنی آخری حد پر پہنچ کر ندامت بن جاتا ہے۔ غصہ جب اپنی آخری کارروائی کر چکا ہوتا ہے تو اس کے بعد وہ اعتراف میں ڈھل جاتا ہے۔ حیوانیت اپنا آخری روپ دکھانے کے بعد انسانیت کی طرف لوٹ آتی ہے۔ ۲۱ اکتوبر کی شام کو نماز مغرب کے بعد دوبارہ ہم لوگ فلارنس دیکھنے کے لئے نکلے۔ خاص طور پر یہاں کا کیتھڈرل دیکھا۔ وہ ہیبت ناک حد تک بڑا ہے۔ سفید اور کالے ماربل کو ملاکر وہ بچروھیں صدی عیسوی میں بنایا گیا تھا۔ اس کے اندر داخل ہوئے تو اس کے وسیع ہال اور اس کی انتہائی اونچی چھت کے نیچے انسانوں کے قافلے بالشتیے کی مانند نظر آتے تھے۔ باہر نکلے تو اچانک ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ پاکستان کے مسٹر اسد صادق پی آئی اے تھے جو اپنی اہلیہ کے ساتھ بطور سیاح یہاں آئے تھے۔ وہ کراچی میں رہتے ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ لوگ یہاں کس سلسلہ میں آئے۔ جشن منانے کہا کہ پیس کانفرنس میں شرکت کے لئے۔ وہ فوراً بولے : کتنا اچھا ہو کہ ہمارے دونوں ملک بھی آپس میں اس طرح کی پیس کانفرنس کریں۔ ان کی اہلیہ ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں میں دیکھ رہی ہوں کہ یورپ کے ملکوں کے لڑکے اور لڑکیاں آزادانہ طور پر گھوم رہے ہیں۔ کاش اسی طرح ہندوستان اور پاکستان کے بچے بھی دونوں ملکوں میں آنے اور جانے لگیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات اتنی سادہ نہیں۔ اس کا تعلق فہم و تدبر سے ہے۔ یورپ کے لوگ اس راز کو جانتے ہیں کہ شکایتیں اور اختلافات کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ اس لئے انھوں نے یہ طے کیا کہ شکایتوں کو الگ رکھتے ہوئے میل جول قائم رکھو۔ اس کے برعکس آپ کے لیڈر یہ کہتے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues