The present glory of Florence is its Past.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۴
ہیں کہ پہلے اختلاف اور شکایت کو ختم کرو، اس کے بعد ہم میل جول کی فضا قائم کریں گے۔ حالانکہ ۔ اختلاف زندگی کا لازمی حصہ ہے، وہ کبھی ختم ہونے والا ہی نہیں۔
روانگی سے ایک دن پہلے 19 اکتوبر کی شام کو جے پور کے سردار موہندر سنگھ (650715 Tel) دہلی میں مجھ سے ملتے تھے۔ وہ بھی لاہور میں پیدا ہوئے اور وہاں انھوں نے اردو پڑھی۔ وہ راقم الحروف کے مضامین اکثر پڑھتے رہتے ہیں اور بہت زیادہ متاثر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اُس وقت ہندو اور مسلمان ایک ہو کر رہتے تھے۔ میری ماں کا انتقال میرے بچپن میں ہوگیا۔ میرے محلہ میں ایک مسلم خاتون تھیں۔ وہ مجھ کو اپنے بیٹے کی طرح مانتی تھیں۔ ماں کے انتقال کے بعد میں اُن کے گھر گیا تو وہ اپنے چھوٹے بچہ کو گود میں لئے ہوئے تھیں۔ مجھ کو دیکھ کر انھوں نے کہا: آؤ بیٹا ۔ یہ کہہ کر انھوں نے مجھے اپنی گود میں لے لیا۔ ان کا بچہ ایک ٹانگ پر بیٹھا گیا اور میں دوسری ٹانگ پر۔ اس کے بعد انھوں نے دولڈ منگائے۔ ایک انھوں نے مجھ کو دیا اور دوسرا اپنے بیٹے کو۔ یہ قصہ بتاتے ہوئے سردار جی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس طرح کے واقعات لوگ اکثر بتاتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ جب ہندو اور مسلمان میں اتنا میل ملاپ تھا تو آخر ملک کا بٹوارہ کیسے ہوا۔ میرے نزدیک اس کی ذمہ داری عوام پر نہیں بلکہ صرف لیڈروں پر ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں صدیوں سے نہایت مل جل کر رہ رہے تھے۔ مگر لیڈروں نے نفرت کی باتیں کرکے دونوں کو ایک دوسرے سے پھاڑ دیا۔ مثلاً جناح اور نہرو میں انا کا ٹکراؤ (ego clash) ہوا۔ مسٹر جناح اس کا بدلہ جواہر لال نہرو سے لے سکتے تھے۔ مگر مسٹر جناح نے اس کو پوری قوم کا مسئلہ بنا دیا۔ انگریزوں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تقسیم کے نظریہ کی خاموش حمایت کی ۔ اور بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔
۲۲ اکتوبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر ایک بشپ سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایتھوپیا سے آئے تھے۔ میں نے ایتھوپیا اوراریٹریا کے بارہ میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ چند لوگوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے یہ تقسیم کی ہے۔ ورنہ وہ دونوں ایک ہی ملک تھے۔ میں نے دونوں کے اقتصادی حالات کے بارہ میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ اریٹریا تو بہت چھوٹا ہے اور نہایت غریب بھی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues