تہجد کی حقیقت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۱
تہجد کی حقیقت
قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ : ومن الليل فتهجد به نافلة لك . یعنی رات کو تہجد پڑھو ، یہ نفل ہے تمہارے لئے (الاسراء ۷۹ ) عربی زبان میں نافلہ کے معنی زائد کے ہوتے ہیں ۔ لسان العرب میں ہے کہ نافلہ وہ ہے جو اصل سے زائد ہو (و النافلة ما كان زيادة على الاصل) لسان العرب ۱۱/ ۱۷۶ اس اعتبار سے نافلۃ لک کا مطلب ہوگا زائدہ لک ۔ یعنی تہجد کی نماز تمہارے لئے پانچ نمازوں پر زائد ہے۔ روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے پانچ نمازوں کو اپنے بندوں کے اوپر فرض قرار دیا ہے (خمس صلوات فرضهن اللہ علی العباد) اور تہجد کی نماز کی حیثیت زائد نماز کی ہے۔ یہ انسان کی ایک فطری خواہش ہے کہ جس سے اس کو قلبی لگاؤ ہو اس کے معاملہ میں وہ مقرر فرائض سے بڑھ کر کچھ کرنا چاہتا ہے۔ تہجد کی نماز بندہ کی اسی خواہش کی تکمیل کے لئے ہے۔ عمومی طور پر اس صلاۃ زائد کا بہترین وقت رات کا آخری پہر ہے۔ اس وقت آدمی ایک نیند لیکر تروتازہ ہو جاتا ہے۔ اور اپنے ان پر سکون لمحات کو کچھ دیر کے لئے خدا کی یاد میں گزارنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ فجر سے پہلے چند رکعت نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ مگر بعض انسانوں کے احوال کے اعتبار سے اس صلاۃ زائد کے لئے دوسرے اوقات بھی ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص رات کو دیر میں سویا ۔ اس کی نیند دیر میں کھلی ۔ اس نے فجر کی نماز پڑھی ۔ اس کے بعد ضروریات سے فارغ ہو کر اس نے غسل کیا۔ اب وہ اپنے آپ کو تروتازہ محسوس کرنے لگا۔ ایسے انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی صلاۃ زائد کو اپنے ان پر سکون لمحات میں ادا کرے ۔ زائد کا یہ اصول ہر معاملہ میں ہے۔ تجدید کلمہ گویا شہادت زائد ہے۔ تہجد اسی طرح صلاۃ زائد ہے۔ نفل روزہ صوم زائد ہے۔ انفاق عام کی حیثیت زکاۃ زائد کی ہے۔ عمرہ گویا حج زائد ہے۔ یہی معاملہ تمام اسلامی اخلاق اور اسلامی اعمال کا ہے۔
عمل زائد میں ایک خاص لذت ہے جو عمل زائد ہی میں ملتی ہے کسی اور طرح اس کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues