Al-Risala · February 1996 · page 12

مسجد سے مسجد

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۲

مسجد سے مسجد

اسلام آباد سے شائع ہونے والے عربی مجلہ الدراسات الاسلامیہ ( جولائی - ستمبر 1995 ) میں فرانس میں اسلام کے بارہ میں ایک تفصیلی رپورٹ چھپی ہے ۔ اس ذیل میں بتایا گیا ہے کہ فرانس کے ایک ممتاز شخص نے اسلام قبول کیا۔ ان کا موجودہ نام دانیال یوسف لوکلیک Le Cleck ہے ۔ قبولِ اسلام کے بعد وہ جماعت تبلیغ کے ساتھ وابستہ ہو گئے ۔ انھوں نے ان کی ایک جماعت کے ساتھ پیدل سفر کے حج کیا ۔

اس سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ انگلینڈ سے چل کر وہ یورپ کے مختلف ملکوں سے گزرے ۔ پھر وہ ترکی میں داخل ہوئے ۔ پھر اردن و غیره ہوتے ہوئے سعودی عرب پہنچے ۔ یہ لمبا سفر کس طرح طے ہوا ، اس کی وضاحت کرتے ہوئے رپورٹ میں یہ الفاظ ہیں کہ : مارّاًمن مسجد الی مسجد (صفحه ۱۲۶) یعنی وہ مسجدوں سے گزرتے رہے ، ایک مسجد سے دوسری مسجد ، دوسری سے تیسری مسجد ۔ اس طرح ایک کے بعد ایک مسجدوں میں ٹھہرتے ہوئے وہ مکہ پہنچ گئے ۔

یہ سادہ الفاظ ایک اہم حقیقت کو بتا رہے ہیں ۔ تبلیغی جماعت کی کامیابی کا ایک خاص راز یہ ہے کہ اس نے ملت کے اندر موجود ڈھانچہ کو استعمال کیا۔ اگر وہ اپنے دینی کام کی یہ شرط رکھتے کہ پہلے دنیا کا سیاسی نظام ان کے موافق ہو جائے ، اس کے بعد وہ اپنا دینی مقصد پورا کر سکیں گے تو وہ نظامِ حاضر سے ٹکراؤ شروع کر دیتے ۔ اور اس طرح نامعلوم مدت تک کسی مثبت آغاز سے محروم رہتے ۔ مگر جب انھوں نے مسجد کے موجود ڈھانچہ میں اپنا کام شروع کیا تو پہلے ہی دن ان کونقطۂ آغاز مل گیا۔ کیوں کہ مسجدیں تو بے شمار تعداد میں ساری دنیا میں پہلے سے بنی بنائی موجود تھیں ۔

اس دنیا میں کام کے دو طریقے ہیں ۔ ایک ہے سیاسی طریقہ ، اور دوسرا ہے دعوتی طریقہ ۔ سیاسی طریقہ سب سے زیادہ سیاسی نظام کو بدلنے پر زور دیتا ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک جب تک سیاسی طاقت قبضہ میں نہ آئے کوئی مثبت کام انجام نہیں دیا جا سکتا ۔

اس کے برعکس دعوتی کام موجودہ نظام کو توڑے بغیر اپنے لیے کام کا راستہ نکالتا ہے ۔ اس طرح اس کو اول دن ہی سے اپنے کام کا آغاز مل جاتا ہے ۔ اس کا ہر قدم آگے بڑھنے کے ہم معنی ہوتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page