مسجد سے مسجد
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۳
دو طریقے
ایک قصہ ہے کہ ہوا میں اور سورج میں مقابلہ ہوا۔ ہوا نے کہا کہ میں زیادہ طاقت ور ہوں۔ سورج نے کہا کہ میں زیادہ طاقت ور ہوں۔ یہ بحث ختم نہیں ہو رہی تھی۔ پھر دونوں نے طے کیا کہ کسی معاملہ کو لے کر دونوں اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں۔ پھر دونوں میں سے جو جیتے وہ زیادہ طاقت ور مانا جائے ۔
صبح کا وقت تھا۔ کھلے میدان میں ایک شخص کمبل اوڑھے ہوئے چلا جا رہا تھا۔ دونوں نے کہا کہ آؤ، اس آدمی پر ہم اپنی طاقت کو آزمائیں۔ جو اس آدمی کا کمبل ہٹا دے وہ زیادہ طاقت ور تسلیم کیا جائے گا ۔
پہلے ہوا میدان میں آئی۔ اس نے تیز جھکڑ چلایا، اس نے آندھی کا طوفان برپا کر دیا۔ مگر جب آدمی نے ہوا کا طوفان دیکھا تو اس کو ڈر ہوا کہ میرا کمبل کہیں اڑ نہ جائے۔ اس نے اور زیادہ اپنے کمبل کو لپیٹ لیا۔ ہوا اس میں ناکام ہو گئی کہ وہ کمبل کو آدمی سے جدا کر دے ۔ اس کے بعد سورج نے اپنا عمل شروع کیا۔ اس نے تیزی کے بجائے آہستگی کا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے دھیرے دھیرے اپنی کرنیں فضا میں پھیلانا شروع کیا۔ آدمی کو کسی قدر گرمی کا احساس ہونے لگا۔ اس نے اپنے کمبل کو ڈھیلا کر لیا۔ یہاں تک کہ جب گرمی بڑھی تو اس نے کمبل اپنے جسم سے ہٹایا اور اس کو لپیٹ کر اپنی گردن پر ڈال لیا۔
یہ تمثیلی قصہ نرمی اور سختی کے فرق کو بتاتا ہے۔ معاملات میں نرمی کا طریقہ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور سختی کا طریقہ ناکامی کی طرف ۔
نرمی سے آپ کسی آدمی کے دل کوجیتتے ہیں اور سختی سے اس کو دور کر دیتے ہیں۔ کسی کے برے سلوک کو معاف کر کے آپ اس کے اندر شرمندگی کا جذبہ ابھارتے ہیں۔ اس کے برعکس برائی کے جواب میں برائی یا اینٹ کے جواب میں پتھر کا طریقہ اختیار کر کے اس کے اندر ضد اور انتقام کی آگ بھڑکا دیتے ہیں۔ یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا (ان الله يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues