غسل اسلام میں
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴
غسل اسلام میں
اسلام میں قلب و روح کی پاکی کے ساتھ جسم کی پاکی پر بھی بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پاکیزگی آدھا ایمان ہے (الطهور نصف الايمان) نماز اسلام کی اہم ترین عبادت ہے۔ اس کے متعلق فرمایا کہ اللہ کوئی نماز جسمانی پاکی کے بغیر قبول نہیں کرتا (لا يقبل الله صلاةً بغير طهور) ہر نماز کے ساتھ وضو کو لازم قرار دیا گیا جو گویا کہ آدھا غسل ہے۔ جہاں تک مکمل جسمانی غسل کا تعلق ہے تو حدیث کی کتابوں میں طہارت کے ابواب پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب عام طور پر روزانہ غسل کرتے تھے۔ اس زمانہ میں فجر سے پہلے غسل کا عام رواج تھا۔ اس واقعہ کو حدیث کے کسی بھی مجموعہ میں کتاب الطہارۃ کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔
مسند احمد کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ ہر دن ایک بار غسل کرتے تھے (كان عثمان يغتسل كل يوم مرةً) ہر روز صبح کو غسل کرنا انسان کی ایک فطری ضرورت ہے۔ یہ فطری تقاضا یقینی طور پر اسلام میں بھی شامل ہے جو کہ حقیقی معنوں میں فطرت کا دین ہے۔ اس معاملہ میں بعض لوگوں کو ایک روایت سے اشتباہ پیش آیا ہے۔ صحیح البخاری میں روایت ہے - حضرت عائشہؓ بتاتی ہیں کہ جمعہ کے دن لوگ دور دور سے چل کر مدینہ آتے تھے۔ چنانچہ وہ غبار آلود ہوتے تھے اور ان کے جسم سے پسینہ نکل رہا ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حال دیکھ کر ان کے ایک آدمی سے کہا : لو أنكم تطهرتم ليومكم هذا ( فتح الباری ۲/ ۴۷۴) یعنی کاش تم اپنے آج کے دن اپنے آپ کو پاک کر لیتے۔
اس حدیث کا کوئی تعلق روزانہ غسل یا ہفتہ وار غسل سے نہیں ہے۔ اس کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ ہے کہ آج تم بہت سے لوگوں کے درمیان بیٹھو گے۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کرو گے۔ ایسے اجتماعی موقع کا تمہیں لحاظ کرنا چاہیے اور نہائے بغیر اس میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ موقع کے اعتبار سے غسل کی خصوصی اہمیت کا بیان ہے نہ کہ غسل کے وقت اور میعاد کا تعین۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues