شکر اور ناشکری
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۵
شکر اور ناشکری
پانی کے ایک گلاس سے لے کر حکومتی اور سیاسی اقتدار تک جو کچھ اس دنیا میں کسی کو حاصل ہے وہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ ہر چیز براہِ راست اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ اس دنیا میں جو کچھ بھی کسی کو ملتا ہے وہ اللہ کے چاہنے سے ملتا ہے، اللہ نہ چاہے تو کچھ بھی کسی کو نہیں مل سکتا، خواہ وہ بطورِ خود اس کے لئے کتنا ہی زور مارے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو قرآن و حدیث سے دو اور دو چار کی طرح ثابت ہے۔
دوسری چیز قرآن و حدیث سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ خدائی عطیہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک خصوصی عطیہ۔ اور دوسرے عمومی عطیہ۔ خصوصی عطیہ کو آجکل کی زبان میں سیاسی اقتدار کہا جا سکتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتب ہے کہ سیاسی اقتدار ہر ایک کو نہیں دیا جاتا۔ اور نہ وہ پولیٹیکل تحریک یاگن کلچر چلا کر کسی کو حاصل ہوتا۔ اس کا تعلق براہِ راست سنتِ اللہ سے ہے۔ اس سنتِ اللہ میں سے ایک یہ ہے کہ جو گروہ حقیقی معنوں میں ایمان اور عملِ صالح کا ثبوت دے اس کے لئے سیاسی اقتدار کا فیصلہ کر دیا جائے (النور (۵۵) گویا اقتدار مطلوب ہوتا بھی اس کے لئے ایمان اور عملِ صالح کی تحریک چلانا ہے نہ کہ سیاسی ہنگامہ آرائی کا معرکہ جاری کرنا۔
اس کے بعد خدا کا عمومی عطیہ وہ ہے جو کم و بیش ہر ایک کے حصہ میں آتا ہے۔ یہ اصولی طور پر دو قسم کی چیزوں پر مشتمل ہے۔ پرامن حالات اور حصولِ رزق کی آسانی۔ یہ بات قرآن کی مندرجہ ذیل آیت سے معلوم ہوتی ہے :
ضرب الله مثلا قرية كانت آمنة اور اللہ ایک بستی والوں کی مثال بیان کرتا ہے کہ مطمئنة ياتيها رزقها رغدا من كل وہ امن اور اطمینان میں تھے۔ ان کو ان کا رزق مكان فكفرت بانعم الله فاذاقها الله فراغت کے ساتھ ہر طرف سے پہنچ رہا تھا۔ پھر لباس الجوع والخوف بما كانوا انھوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ يصنعون نے ان کو ان کے اعمال کے سبب سے بھوک اور (النحل (۱۱۲) خوف کا مزہ چکھایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues