شکر اور ناشکری
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۶
اعتراف
سب سے بڑا عمل اعتراف ہے۔ اعتراف کی حیثیت جڑ والی صفت کی ہے۔ جس آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ ہو، اس کے اندر دوسری تمام خوبیاں بھی موجود ہوں گی۔ جو آدمی اعتراف سے خالی ہو، وہ یقینی طور پر تمام خوبیوں سے بھی خالی ہوگا۔
یہ اعتراف کا مادہ ہی ہے جو کسی آدمی کو ایمان کی طرف لے جاتا ہے جو کہ دین کی اصل بنیاد ہے۔ جس کو شریعت کی زبان میں ایمان کہا جاتا ہے، اسی کا نام فطرت کی زبان میں اعتراف ہے۔ اعتراف کی فطرت جب ایمان میں ڈھل جائے تو وہیں سے دینی یا اسلامی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ اعتراف ہی کی عملی صورت کا نام عبادتِ خداوندی ہے۔
اعتراف کا مادہ ہی آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پیغمبر کی پیغمبری کو مانے۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ پیغمبر اس کے لئے قابلِ اطاعت نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اسے اپنی پوری زندگی میں پیغمبر کے حکم کی پیروی کرنا چاہئے۔
قرآن کو خدا کی کتاب سمجھنا اور حدیث کو پیغمبر خدا کے کلام کا درجہ دینا بھی اسی جذبۂ اعتراف کی بنا پر ہوتا ہے۔ حقیقتِ واقعہ کے اعتراف کا جذبہ آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ قرآن وحدیث کی اس حیثیت کو تسلیم کرے جو فی الواقع اسے حاصل ہے۔
اسی طرح انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کا معاملہ بھی اعتراف سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ در اصل جذبۂ اعتراف ہی ہے جو آدمی سے یہ کہتا ہے کہ دوسروں کا حق جو تمہارے اوپر آتا ہے اس کو تم پوری طرح ادا کرو۔ احترام، شفقت، امانت، صبر، شریفانہ اخلاق، وعدہ پورا کرنا، لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا، اس قسم کی جتنی بھی اعلیٰ انسانی خصوصیات ہیں، ان سب کا سر چشمہ اعتراف ہے اسی طرح تمام بری صفات کا رشتہ بے اعترافی سے بندھا ہوا ہے۔ ایمان پر راضی نہ ہونا بے اعترافی ہے۔ کسی انسان کے ساتھ حسد اسی لئے پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اس کے فضل کا اعتراف کرنا نہیں چاہتا۔ آدمی خیانت اسی لئے کرتا ہے کہ وہ نہیں مانتا کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ اس کی اپنی نہیں ہے بلکہ دوسرے کی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues