دعوہ ہاٹ لائن
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۷
دعوہ ہاٹ لائن
"ہیلو، کیا کوئی صاحب وہاں ہیں جو میری بات کا جواب دیں۔ میں ایک امریکن یہودی ہوں، اور اسلام کے بارہ میں کچھ جاننا چاہتا ہوں ۔ میں نے امریکہ کی کئی مسجدوں میں ٹیلیفون کیا، مگر کہیں سے مجھے اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔ میں صرف اسلام کے بارہ میں معلومات چاہتا ہوں۔"
یہ ایک ٹیلیفون کال تھی جو اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (ICNA) کے دفتر واقع جمیکا میں موصول ہوئی ۔ ٹیلیفون پر موجود شخص نے اپنی استطاعت کے مطابق جواب دیا۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ اس طرح کی کالیں اکثر امریکہ کی مسجدوں میں موصول ہوتی ہیں۔ مگر بروقت مسجد میں کسی موزوں شخص کی عدم موجودگی کی وجہ سے کال کرنے والے کو صحیح اور موثر جواب نہیں مل پاتا۔ یاسرے سے وہاں کوئی شخص موجود نہیں ہوتا جو ٹیلیفون کرنے والے کو ضروری اطلاع دے۔ آخر کار یہ واقعہ مذکورہ اسلامک سنٹر (اکنا) کے دفتر میں ہاٹ لائن ٹیلیفون نصب کرنے کا محرک بن گیا ۔ ۱۹۹۵ میں یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا۔ اس کا نام دعوہ ہاٹ لائن ہوگا۔ اور اس کا نمبر اس طرح ہوگا : (ISLAM-662-1-800) اس لائن پر کوئی نہ کوئی تربیت یافتہ آدمی ہر وقت موجود رہے گا ۔ اور پوچھنے والوں کو اسلام کے بارہ میں ضروری معلومات فراہم کرے گا۔ فی الحال اس مقصد کے لئے مذکورہ مرکز نے دو ہمہ وقتی کارکنوں کی خدمات حاصل کی ہیں جو انگریزی زبان پر قدرت رکھتے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ انھوں نے اسلام کا اچھا مطالعہ بھی کیا ہے۔ اس منصوبہ کا ابتدائی خرچ ایک لاکھ ڈالر (۳۰ لاکھ روپیہ) ہے (دعوت، ۱۳ جولائی ۱۹۹۵) قدیم زمانہ میں داعی کو مدعو کے پاس جانا پڑتا تھا۔ اب موجودہ زمانہ میں ایسی تبدیلیاں ہوئی ہیں کہ مدعو خود داعی کے پاس پہنچ رہا ہے۔ ضرورت ہے کہ دنیا بھر کے شہری مراکز میں ایسے انتظامات کئے جائیں جہاں سے لوگ ٹیلیفون پر اسلام کے بارہ میں معلومات حاصل کر سکیں ۔ ہندوستان کے بڑے شہروں میں بھی اس کی سخت ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو غیر مسلموں کے اعلیٰ طبقہ میں اسلام کا پیغام پہنچنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues