دعوہ ہاٹ لائن
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۸
ایک واقعہ
مسٹر عبدالمحیط خاں ریٹائرڈ جوائنٹ ڈائریکٹر، آجکل فیض آباد میں رہتے ہیں۔ ۲۸ جون ۱۹۹۵ کی ملاقات میں انھوں نے اپنی سروس کے زمانہ کے کئی سبق آموز تجربات بتائے۔ ان میں سے ایک تجربہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
مسٹر اے ایم خاں نے ۱۹۵۵ میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ایس کی ڈگری لی۔ ۱۹۶۳ میں چندولی ضلع بنارس) کے پرائیویٹ پالی ٹکنیک میں ایک جگہ خالی ہوئی۔ یہ سینیئر لکچرر کی جگہ تھی۔ اسی کے ساتھ کامیاب امیدوار کو الیکٹریکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ کا عہدہ بھی سنبھالنا تھا۔
اس کا انٹرویو بنارس کے کمشنر جے بی ٹنڈن کی سرکاری رہائش گاہ پر تھا۔ کمشنر صاحب چندولی پالی ٹکنیک میں بحیثیت عہدہ اس کی منیجنگ کمیٹی کے صدر بھی ہوتے تھے۔ چنانچہ وہ بھی انٹرویو میں شریک تھے۔ انٹرویو بورڈ کے ایک رکن پر وفیسر رام سرن تھے۔ دوسرے رکن پروفیسر گیرولا تھے۔ پروفیسر گیرولا بنارس ہندو یونیورسٹی میں مسٹر خاں کے استاد رہ چکے تھے۔ پروفیسر رام سرن نے مسٹر خان سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ انسٹرومنٹ ٹرانسفارمر کیا ہوتا ہے :
Mr. Khan, do you know what is instrument transformer? مسٹر خاں نے ابھی سوال کا جواب نہیں دیا تھا کہ پروفیسر گیرو لانے کمشنر ٹنڈن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب سے بہتر امید وار ہیں۔ ان کے لئے انٹرویو دینے کا کوئی سوال نہیں : He is the best candidate. There is no question of interview. اس کے بعد انھوں نے اے ایم خان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر خان، آپ جاسکتے ہیں : Mr. Khan, you can go. پروفیسر سرن جنھوں نے سوال کیا تھا وہ خاموش رہے۔ مسٹر خاں اپنے کاغذات لے کر کمرہ سے باہر آگئے۔ ایک ہفتہ کے بعد ان کو حسب قاعدہ اپائنٹمنٹ لیٹر مل گیا۔ وہ چندولی پالی ٹکنیک میں سینیئر لکچرر
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues