Al-Risala · February 1996 · page 19

دعوہ ہاٹ لائن

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۹

مع ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ الیکٹریکل انجینئرنگ مقرر ہو گئے ۔ اس کے بعد ان کی ترقی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ جوائنٹ ڈائریکٹر (ٹیکنیکل ایجوکیشن) کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ آج کل اکثر نوجوان یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ روزگار نہیں۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قابل روزگار افراد نہیں۔ مسٹر اے ایم خان کے ساتھ مذکورہ واقعہ اسی لیے پیش آیا کہ انھوں نے محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی، ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔ تعلیم کے دوران ان کا کردار نہایت عمدہ رہا۔ پروفیسر گیرولا اور دوسرے متعلق لوگوں کے درمیان ان کی تصویر نہایت عمدہ بنی۔ اسی کی وہ قیمت تھی جو مذکورہ شاندار واقعہ کی صورت میں انھیں ملی۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر ادارہ اور ہر دفتر اچھے کارکنوں کو چاہتا ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر اس کا کام درست طور پر نہیں چل سکتا۔ کوئی بھی آدمی اپنا دشمن نہیں، اس لیے کوئی بھی آدمی اچھے کارکن کو نظر انداز کرنے والا نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اچھا اور قابل اعتماد کارکن دوسروں کی ضرورت ہے۔ آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیے، اور پھر آپ کے لئے روزگار حاصل کرنا کچھ بھی مشکل نہ ہوگا۔ اس دنیا کا نظام دو طرفہ لین دین پر چل رہا ہے۔ یہاں شکایت اور احتجاج اور مطالبہ کی کوئی قیمت نہیں۔ اس دنیا کا سادہ اصول یہ ہے کہ جتنا دینا اتنا پانا۔ اگر آپ روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو دوسروں کے لئے مفید بنائیے۔ اپنے اندر وہ مہارت پیدا کیجئے جس کی دوسروں کو ضرورت ہے۔ اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے آپ کو روزگار تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد روزگار خود آپ کو تلاش کرے گا۔ حتی کہ یہ حال ہو جائے گا کہ آپ آگے ہوں گے اور روزگار آپ کے پیچھے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page