Al-Risala · February 1996 · page 20

استقلال میں کامیابی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۰

استقلال میں کامیابی

استقلال میں کامیابی ہے ۔ کسی کا یہ قول نہایت با معنی طور پر کامیابی کی حقیقت کو بتاتا ہے ۔ اور پوری تاریخ اس کی تصدیق کر رہی ہے ۔ زندگی ہمیشہ نا ہموار راستوں میں ملے ہوتی ہے ۔ یہاں ہر آدمی کو طرح طرح کے ناموافق حالات سے سابقہ پیش آتا ہے ۔ اس لئے زندگی میں ہمیشہ یہ کرنا پڑتا ہے کہ نا موافق تجربات کے باوجود آدمی اپنا سفر برابر جاری رکھے۔ اسی کا نام استقلال ہے ۔ اور جو آدمی استقلال کا ثبوت دے وہی اس دنیا میں کامیابی کی منزل کو پہنچتا ہے جتنا استقلال اتنی ہی کامیابی۔

یہ فطرت کا قانون ہے اور اگر آدمی آنکھ کھول کر دیکھے تو ہر طرف اس کو ایسے نشانات نظر آئیں گے جو اس کو اس حقیقت کا پتہ دے رہے ہوں۔ جو اس کو اس حقیقت کی یاد دہانی کرانے والے ہوں۔

ایک آدمی دریا کے کنارے ایک چٹان پر کھڑا ہوا تھا۔ اس نے نیچے کی طرف دیکھا تو اس کو نظر آیا کہ پانی کی موجوں کے مسلسل ٹکرانے سے چٹان کا پتھر گھس گیا ہے۔ اس نے کہا کہ دیکھو، چٹان ایک سخت چیز ہے اور پانی ایک نرم چیز ہے۔ لیکن اگر نرم چیز بھی استقلال کے ساتھ عمل کرے تو وہ چٹان جیسی سخت چیز کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہے۔ چنانچہ ساری دنیا میں سمندروں کے کنارے بے شمار مقدار میں ریت کے جو ذرے پائے جاتے ہیں وہ ساحلی چٹانوں کے ساتھ پانی کے اسی ٹکراؤ کے ذریعہ وجود میں آئے ہیں۔

مولانا اسماعیل میرٹھی ایک ادیب اور شاعر تھے۔ انھوں نے بہت سی اصلاحی نظمیں لکھی ہیں۔ استقلال کی اس اہمیت کو انھوں نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے : جو پتھر پہ پانی پڑے متصل تو گھس جائے بے شبہ پتھر کی سل اس معاملہ کی ایک تازہ مثال ڈاکٹر سبرامنیم چندر شیکھر (۱۹۹۵ - ۱۹۱۰) کا واقعہ ہے۔ وہ بچپن سے ریاضی اور فلکیات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ انھوں نے اس موضوع پر ریسرچ شروع کی کہ ستارے کس طرح وجود میں آتے ہیں ۔ اور کس طرح فنا ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنی تحقیقات کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page