استقلال میں کامیابی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۱
ابتدائی نتیجہ کو ایک مقالہ کی صورت میں مرتب کیا اور پہلی بار 11 جنوری 1935 کو لندن میں ہونے والی ایسٹر وفیزیکل سوسائٹی کی ایک میٹنگ میں یہ مقالہ پیش کیا۔ اس میٹنگ میں برطانیہ کے بڑے بڑے سائنس داں موجود تھے۔ ڈاکٹر سبرامنیم چندر شیکھر جب اپنا مقالہ پیش کر چکے تو اس وقت کے ایک ممتاز برطانوی سائنس داں سر آرتھر ایڈنگٹن اٹھے۔ انھوں نے نوجوان چندر شیکھر کا مذاق اڑایا اور ان کا مقالہ سب کے سامنے پھاڑ کر پھینک دیا۔
اس کے بعد چندر شیکھر نے چاہا کہ اپنا یہ مقالہ لندن کے ایسٹر وفیزیکل جَرنَل میں چھپوائیں ۔ مگر اس سائنسی جَرنَل نے بھی ان کا مقالہ چھاپنے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر چندر شیکھر برطانیہ میں پیش آنے والے اس حوصلہ شکن تجربہ سے بد دل ہو کر اپنے وطن ہندوستان واپس آئے اور یہاں یو نیورسٹیوں میں ملازمت کی تلاش کی مگر یہاں اپنے وطن میں بھی انھیں کسی یونیورسٹی میں ملازمت نہ مل سکی۔ وطن کے باہر بھی انھیں ٹھکرادیا گیا اور وطن کے اندر بھی۔
لیکن چندر شیکھر مایوس نہیں ہوئے۔ اس کے بعد وہ شکاگو (امریکہ) چلے گئے۔ وہاں انھیں حالات سازگار ملے۔ مگر وہ اپنی تحقیقات میں از سرِ نو مشغول ہو گئے۔ دھیرے دھیرے ان کا نظریہ مقبول ہونے لگا۔ ان کے مقالات بڑے بڑے سائنسی مجلات میں چھپنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کا نظریہ چندر شیکھر لِمٹ (Chandra Shekhar Limit) کے نام سے سائنسی دنیا میں تسلیم کر لیا گیا۔ 1983 میں جب کہ ڈاکٹر چندر شیکھر کی عمر 73 سال ہو چکی تھی ان کو سائنس کا نوبل پرائز دیاگیا۔ اس طرح کے سبق آموز واقعات سے انسانی تاریخ بھری ہوئی ہے۔ اس دنیا میں جس شخص نے بھی کوئی حقیقی کامیابی حاصل کی ہے اسی استقلال اور مسلسل عمل کے ذریعہ حاصل کی ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ نہیں۔
کسی مفکر کا قول ہے کہ اگر تم کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے اندر انتظار کی طاقت پیدا کرو۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے۔ کامیابی ہمیشہ لمبے انتظار کے بعد ملتی ہے۔ اور انتظار کی ضرورت اسی لئے ہے کہ کوشش کے دوران ہر بار ایسی رکاوٹیں پیش آتی ہیں جو بظاہر منزل کو دور کر دیتی ہیں۔ اس لئے آدمی کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہمت نہ ہارے۔ وہ صبر و برداشت سے کام لیتے ہوئے اپنی کوشش میں لگا رہے۔ وہ انتظار کی مدت کو کبھی ختم نہ ہونے دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues