۲۸ العرب ال فروری ۱۹۹۶
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۲
صابن کے کاغذی ڈبہ پر عربی اور فرنچ اور انگلش میں الرجاء الانتباہکے تحت لکھا ہوا تھا کہ اکثر صابن کا سٹک سوڈ ااور حیوانی چربی کے ذریعہ بنائے جاتے ہیں۔ مگر عنبر صابون حلال اسلامی صابن ہے جو خالص نباتی تیل کے ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اس کے انگریزی الفاظ کسی قدر فرق کے ساتھ یہ تھے:
یہ گویا صابن کا اسلامائزیشن تھا۔ یہ اسلامی صابن ایک برٹش فرم نے بنایا ہے ۔ میں نے سوچا کہ اگر ہم یہ واضح کر سکیں کہ اسلامی اصول تمہارے لئے مفید اصول ہیں تو دنیا تمام تعصبات کو چھوڑ کر اسلامی اصول کو اختیار کر لے گی۔
جو لوگ مغربی ملکوں میں ہیں وہ مسلم ملکوں کے مقابلہ میں اپنے بچوں کے دین کے لئے زیادہ چوکنار ہتے ہیں۔ شمشاد صاحب کے گھر میں ایک بار میں حمام سے نکل کر اپنے کمرہ کی طرف چلا تو دوسرے کمرے سے آواز آئی مسٹر شمشاد اپنے صاحبزادے سے کہہ رہی تھیں: جھوٹ بولنے سے کیا ملا ، گناہ ملانہ ، لکھ گیا اوپر۔
برمنگھم کی ایک تقریر کے بعد ایک صاحب نے سوال کیا کہ مغربی ملکوں میں ہمارے بچے یہاں کے کلچر سے بہت تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سے حفاظت کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ میں نے مذکورہ واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہی ماحول ہر گھر میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ بچہ کے دل میں بچپن سے یہ ڈال دیں کہ تمہارا قول و فعل اوپر لکھا جارہا ہے تو وہ ساری زندگی کے لئے اس کا چیک بن جائے گا۔
میں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہم کو حقیقت پسند بننا چاہئے۔ مثلاً اگر آپ یہ مطالبہ لے کر اٹھیں کہ ہمیں سی این این اور بی بی سی کو اسلامائز کرنا ہے تو بظاہر وہ بہت شاندار معلوم ہوتا ہے۔ مگر ایسا مطالبہ کبھی پورا ہونے والا نہیں۔ اس لئے ہمیں وہ کرنا ہے جو ممکن ہے اور ہمارے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues