Al-Risala · February 1996 · page 33

۲۸ العرب ال فروری ۱۹۹۶

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳

بس میں ہے۔ اور ممکن اور بس کی چیز یہی ہے کہ ہر گھر کو تربیت گاہ اور دینی مدرسہ بنا دیا جائے۔ ایگ عراقی تاجر ابراہیم تہامس نے ایک بڑی عجیب بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ حدیث جبریل میں قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ لونڈی اپنا آقا جنے گی (و ان تلد الا مۃ ربتھا) اس پر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس سے مراد غالبًا (surrogate mother) کا ظاہر ہے جو موجودہ زمانہ میں وجود میں آیا ہے۔ جدید مغربی سماج میں دولت مند خاندان کی عورتیں جو بچہ کے حمل کی مصیبت اٹھانا نہیں چاہتیں اور اسی کے ساتھ یہ چاہتی ہیں کہ ان کے پیٹ کی شیپ خراب نہ ہو وہ اس قسم کی تدبیر اختیار کر رہی ہیں۔ خاص طور پر امریکہ میں اس کا رواج دولت مند لوگوں کے یہاں بڑھ رہا ہے۔ اس طریقہ میں یہ کیا جاتا ہے کہ مرد کا اسپرم اور عورت کا ایک لے کر لیبو رٹری میں فرٹائل کیا جاتا ہے۔ پھر اس کو عورت کے رحم womb میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح وہ عورت کے رحم میں پرورش پا کر اپنے وقت پر پیدا ہو جاتا ہے۔ دولت مند عورتیں اپنی ملازمہ عورت سے یا کسی غریب عورت کو کچھ رقم دے کر ایسا کرتی ہیں۔

اس تشریح کی صورت میں مذکورہ حدیث بالکل لفظی طور پر صادق آتی ہے۔ کیوں کہ اس میں ماں کی حیثیت فی الواقع لونڈی کی ہوتی ہے اور اس کے پیٹ سے جو بچہ نکلتا ہے وہ فی الواقع اس کا آقا ہوتا ہے۔

۲۰ سال پہلے تک سروگیٹ مدر کا تصور موجود نہ تھا۔ ایسی حالت میں ۱۴سو سال پہلے عرب کے ایک شخص کی زبان سے یہ جملہ نکلنا اس کا قطعی ثبوت ہے کہ وہ شخص خدا کا پیغمبر تھا۔ اس کے سوا اس کی کوئی اور توجیہ نہیں کی جا سکتی۔

یہاں کے ایک شخص مسٹر فریڈ نے جناب شمشاد خاں صاحب سے سوال کیا کہ برٹرینڈرسل نے لکھا ہے کہ گناہ کرنا اگر گناہ ہے تو گناہ کی بات سوچنا بھی گناہ ہے۔ خدا جب کہتا ہے کہ فلاں کام گناہ ہے اس کو مت کرو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے خود بھی گناہ کیا۔ کیوں کہ گناہ کا خیال ذہن میں لائے بغیر گناہ نہیں کیا جا سکتا۔

شمشاد خاں صاحب نے جواب دیا کہ ایک مینوفیکچر رایک سامان بناتا ہے اور اس کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page