Al-Risala · February 1996 · page 34

door to door leaflet drop

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۴

ایک گائیڈ بک رکھ دیتا ہے کہ اس سامان کو اس طرح استعمال کرو اگر اس کے خلاف کرو گے تو سامان خراب ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں کیا مینوفیکچر مجرم ہے۔ نہیں۔ کیوں کہ مینوفیکچر نے جو کچھ کیا تمہارے فائدے کے لئے کیا۔ ایسی گائیڈ دینے کی بنا پر خود اس کو جرم میں شریک نہیں قرار دیا جا سکتا۔

اس مثال سے تم خدا کے معاملے کو سمجھ سکتے ہو۔ خدا نے جب انسان کو بنایا تو انسان کے لئے جو مفید ترین ہدایات تھیں وہ بھی اس کو پیغمبروں کے ذریعہ بتا دیں۔ پھر جب تم مینوفیکچر کو ہدایت نامہ دینے کی بنا پر مجرم نہیں مانتے تو خدا کو ہدایت نامہ دینے کی بنا پر کیوں ایسا کہہ رہے ہو۔

شمشاد خاں صاحب کے اندر دعوہ ورک کاجذبہ بہت زیادہ ہے۔ ان کا اگر چہ مستقل بزنس ہے مگر ان کی دل چسپی سب سے زیادہ دعوت کے کام سے ہے۔ انھوں نے اس مقصد کے لئے ایک خوب صورت مرکز (اسلامک پروپگیشن سنٹر برمنگھم میں قائم کیا ہے۔ ان کے ذریعہ اب تک تقریباً ۵۰۰ لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ وہ ایک زبر دست کام کر رہے ہیں جس کا نام ہے: گھر گھر اسلام کا تعارف پہنچانا :

door to door leaflet drop

گویا کہ یہ وہ کام ہے جس کو حدیث میں ادخال کلمہ کہا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ انگریزی الرسالہ کی بھی مختلف چیزیں پھیلاتے رہتے ہیں۔ مثلاً انگریزی الرسالہ (مارچ 1993) میں تین صفحہ کا وہ مضمون جس کا عنوان تھا :

From denial to belief

دعوتی کام کے سلسلہ میں انھوں نے کئی عجیب قصے بتائے۔ مثلاً ایک انگریز جس کا قدیم نام ڈیوڈ مورس Dawid Morris تھا ۔ ان سے شمشاد خاں صاحب کا ربط قائم ہوا۔ ایک عرصہ تک گفت گو اور مطالعہ کے بعد آخر انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اب نام کا مسئلہ تھا۔ شمشاد خاں صاحب نے کہا کہ نام بدلنا کوئی ضروری نہیں ہے۔ مگر انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں ہیپوکریٹ (منافق) بن کر رہنا نہیں چاہتا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد مجھے اپنا نام بھی بدلنا ہے۔ اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page