Al-Risala · February 1996 · page 35

From denial to belief

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۵

کچھ دنوں بعد ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ کسی مسجد میں داخل ہوکر وضو کر رہے ہیں۔ اتنے میں عربی لباس میں ایک بزرگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نماز کے لئے جماعت تیار ہے، آجاؤ۔ یہ بزرگ ان کوڈیوڈموریس نہیں کہتے۔ بلکہ ان کو محمد اسلام کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس خواب سے وہ نہایت خوش ہوئے اور اپنا نام محمد اسلام رکھ لیا۔ وہ نیوکیسل میں رہتے ہیں اور ایک بڑی سروس میں ہیں۔

ایک صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے ایک صاحب روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گئے ۔ وہاں عرصہ تک وہ پریشان رہے کیوں کہ کوئی کام نہیں ملا۔ اس وقت مکہ میں ایک ہندوستانی بزرگ رہتے تھے۔ وہ ان سے دعا کے لئے ملے اور ان کو تحفہ کے طور پر دال روٹی پیش کیا۔ بزرگ نے اس کو خوشی سے قبول کرتے ہوئے کہا کہ تمہارا کام بن گیا ۔ تم دال لائے ہو۔ اس کے شروع میں د کا حرف دہے اسی طرح دین، دولت، دنیا، سب کے شروع میں ہے۔ تم کو تینوں چیزیں مل گئیں ۔

اس کے بعد مذکورہ صاحب کو ایک اچھی سروس مل گئی۔ انھوں نے کافی ترقی کی ۔ اس طرح کے واقعات میں بچپن سے سنت آیا ہوں ۔ لوگ ان کو بزرگ کا کرشمہ سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ وہ محض اتفاق ہے۔

شمشاد خاں صاحب تعلیمی لحاظ سے انجینئر ہیں۔ چنانچہ ان کے اندر یہ خاص ملکہ ہے کہ کسی بات کو نہایت درست الفاظ اور انداز میں بیان کرسکیں ۔ ایک روز ان سے منافقت پر گفتگو ہورہی تھی۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے کچھ تجربات بتائے۔ میں نے کہا کہ آپ کو اگر ایک جملہ میں منافق کی تعریف کرنا ہو تو آپ کیا کہیں گے۔ انھوں نے ان الفاظ میں منافق کی تعریف کی: One, who, for some ulterior motives, makes pretences, continuously. میں نے کہا کہ واقعی یہ منافق انسان کی بہت صحیح اور جامع تشریح ہے۔

پاکستانی روزنامہ جنگ کے لندن ایڈیشن (۲۹ ستمبر ۱۹۹۳) میں "لندن نامہ" کے عنوان سے ایک مضمون تھا۔ اس کا پہلا فقرہ یہ تھا:

"برطانیہ اور یورپ میں آباد پاکستانیوں اور کشمیریوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page