Al-Risala · February 1996 · page 36

From denial to belief

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶

کہ جس معاشرے میں وہ رہتے ہیں، یہ نہ تو پاکستانی معاشرہ ہے اور نہ ہی اسلامی معاشرہ۔ اس لئے زندگی گزارنے کے لئے ہمیں بہر حال مقامی معاشرہ کے ساتھ ساتھ چلنا ہو گا ۔ یہ ہماری مجبوری ہے (صفحہ ۳)

باہر کے ملکوں میں ہر جگہ مسلمان اس "مجبوری" کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مگر اپنے ملک میں وہ اس کے لئے تیار نہیں۔ تا ہم میں کہوں گا کہ کم از کم ہندوستان کی حد تک یہ مجبوری کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں مکمل آزادی ہے۔ یہاں مسلمانوں کو صرف یہ جاننا ہے کہ زندگی کا سب سے اہم اصول ایڈجسٹمنٹ ہے۔ اس اصول کی ضرورت ہندوستان میں بھی ہے اور پاکستان میں بھی اور دوسرے تمام ملکوں میں بھی۔

روزنامہ جنگ (۲۸ ستمبر) کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوا کہ پاکستان کی ایم کیو ایم میں ایک بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ حتیٰ کہ انھوں نے اپنا نام بدل دیا ہے۔ ایم کیو ایم کا لفظ بدستور باقی رہے گا۔ مگر پہلے اس کا مطلب یہ ہوتا تھا مہاجر قومی موومنٹ ۔ اور اب اس کا مطلب ہو گا متحدہ قومی موومنٹ ۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین جو آجکل لندن میں مقیم ہیں ۳ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو پشاور کے ایک جلسہ سے لندن سے ٹیلی فون پر خطاب کریں گے ۔ اس تحریک کے لیڈر پہلے مہاجر قومیت ہونے کو اپنی شناخت بنائے ہوئے تھے۔ مگر یہ تحریک ناکام ہو گئی۔ اب وہ پاکستانی قومیت کو اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ جنگ (۲۹ ستمبر) میں ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ بالآخر ایم کیو ایم نے مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ کی شکل اختیار کرلی۔ "

میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں بھی ایک اعتبار سے یہی عمل جاری ہے۔ اب تک وہ ہندوستان کی عمومی قومیت سے الگ اپنی انفرادی قومیت پر اصرار کرتے رہے تھے۔ مگر ۱۹۹۲ کے بعد ان کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ علیحدہ قومیت کے بجائے اب وہ ہندوستانی قومیت کو اپنی شناخت بنانے کی طرف تیزی سے جارہے ہیں۔ یہ ایک صحت مند نقطہ نظر ہے۔ جیسا کہ مولا حسین احمد مدنی نے کہا تھا : قومیں اوطان سے بنتی ہیں نہ کہ مذہب سے۔ شمشاد خاں صاحب کے یہاں ایک کرسچین خاتون ہفتہ وار صفائی کے لئے آتی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page