Al-Risala · February 1996 · page 37

From denial to belief

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۷

اس کا نام پرل تھا۔ وہ اپنی ذاتی کار پر آتی تھی۔ میں نے صاحب خانہ سے پوچھا کہ یہ گھروں میں صفائی کرنے والے لوگ جاہل ہوتے ہیں یا پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ خاتون جو ہمارے یہاں آتی ہے وہ باقاعدہ تعلیم یافتہ ہے اور اس سے پہلے وہ ایک آفس میں سکریٹری تھی۔ اس نے کسی وجہ سے سروس چھوڑ دی۔ اب وہ گھروں میں صفائی کا کام کر رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ لوگ کام میں کوئی عیب نہیں سمجھتے۔ آپ ایک شخص کو دیکھیں گے کہ وہ صفائی کا کام یا اور کوئی بظاہر چھوٹا کام کر رہا ہے۔ حالاں کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگا۔ اس کے پاس کار اور ذاتی مکان ہوگا۔

یہ بات انڈیا جیسے ملک کے لئے بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہاں ایسی حیثیت کا کوئی آدمی صفائی کا کام کرنا کبھی پسند نہیں کرے گا۔ اس قصہ پر مجھے اقبال احمد سہیل مرحوم کی ایک نظم یاد آئی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہمارے اسلاف کس طرح کام کو عار نہیں سمجھتے تھے۔ اس کا ایک شعر یہ تھا :

تھے امام ابو حنیفہ کون اک بزاز تھے اور فرید الدین سا شیخ اجل عطار تھا ۲۸ ستمبر کی شام کو برمنگھم میں پہلا خطاب تھا۔ یہ اینڈ رٹن روڈ (Anderton Road) پر اسپارک بروک سنٹر میں رکھا گیا تھا۔ مقامی مسلمانوں کے علاوہ باہر سے بھی کچھ افراد اس میں شریک ہوئے ۔ چھ روزہ قیام کے دوران یہاں اس نوعیت کے چھ خطاب رکھے گئے ہیں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں اگرچہ ہمارے لئے بہت سی مشکلات ہیں۔ مگر مشکلات زندگی کا حصہ ہیں۔ وہ کسی ایک یا دوسری صورت میں، ہمیشہ دنیا میں باقی رہتی ہیں۔ زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ قانون فطرت کے تحت یہاں عسر کے ساتھ یسر بھی لازمی طور پر موجود رہتا ہے۔ اس لئے ہمارے لئے کسی بھی حال میں مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ آخر میں سوال و جواب کا پروگرام تھا۔

اسی کے ساتھ اسلامی مرکز کی انگریزی کتابوں اور انگریزی رسالہ کا اسٹال بھی رکھا گیا تھا۔ بہت سے لوگوں نے یہاں سے کتابیں حاصل کیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ آج ہر جگہ یہ کوشش ہو رہی ہے کہ مسلم نسلوں کو اسلام سے بیگانہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page