From denial to belief
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۸
کر دیا جائے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ کوئی بھی طاقت اس پر قادرنہیں کہ وہ فطرت کو بلڈ و ز کر سکے۔ ترکی اور روس کی مثالیں اس کا کھلا ہوا ثبوت ہیں۔
۲۹ ستمبر کی شام کو والسل (Walsall) کے اسلامک کلچر سنٹر میں دوسرا خطاب ہوا۔ یہاں میں نے اتحاد کے موضوع پر خطاب کیا۔ میں نے کہا کہ آج ساری دنیا میں مسلمان ایک بلین کی تعداد میں ہیں۔ حالات نے ان کو دنیا کے ہر گوشہ میں پہنچا دیا ہے۔ ان کے پاس ہر قسم کے وسائل ہمیشہ سے زیادہ موجود ہیں۔ اس کے باوجود مسلمان جدید دور میں عزت کا مقام حاصل نہ کر سکے۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ان کے درمیان اتحاد واتفاق نہیں۔ میں نے کہا کہ لوگ کوئی ایک یا دوسری شکایت لے کر باہم لڑنے لگتے ہیں۔ گویا وہ سمجھتے ہیں کہ اتحاد اس وقت ہوگا جب سرے سے شکایت کا خاتمہ ہو جائے۔ مگر ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ پھر میں نے صحابہ کے بہت سے واقعات بتائے کہ کس طرح وہ شکایتوں کے باوجود متحد رہتے تھے۔ مثلاً حضرت خالد کو سرداری کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ، مگر اس کے باوجود وہ بدستور مل کر جہاد کرتے رہے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی نظر عہدہ پر نہیں ہوتی تھی بلکہ ثواب پر ہوتی تھی۔ وہ سوچتے تھے کہ عہدہ نہیں تو اس سے کیا فرق پڑا۔ ثواب تو ان شاء اللہ مجھے حاصل ہے۔ آج لوگوں کی نظر ثواب کے بجائے عہدوں پر ہو گئی ہے۔ اس لئے ان میں اتحاد نہیں ہونے پاتا۔ ۳۰ ستمبر کی شام کو دار العلوم (Coventry Road) میں خطاب تھا۔ اس کا موضوع تھا اسلام میں علم کی اہمیت۔ میں نے کہا کہ عرب کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک عرب عالم سے ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت مسلمان طرح طرح کی مشکلات میں مبتلا ہیں۔ ہر طرف ان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ ایسی حالت میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ ہم اپنے عمل کا آغاز کہاں سے کریں۔ (من این نبدأ)
میں نے کہا کہ اس کا جواب تو قرآن میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلی وحی اتری تو عرب میں بہت سے مسائل تھے۔ کعبہ میں ۳۶۰ بت ، رومیوں اور ایرانیوں کا تدخل
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues